آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں محمد صادق کی طالبان پالیسیوں اور بڑھتی دہشتگردی پر سخت تنقید

آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں محمد صادق کی طالبان پالیسیوں اور بڑھتی دہشتگردی پر سخت تنقید
کیپشن: آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں محمد صادق کی طالبان پالیسیوں اور بڑھتی دہشتگردی پر سخت تنقید

ویب ڈیسک: روس میں افغانستان سے متعلق آٹھویں مسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق کی افغانستان میں بڑھتی دہشتگردی اور طالبان رجیم کی پالیسیوں پر سخت تنقید۔ انہوں نے دہشتگردی کو افغانستان کے بحران کی بنیادی وجہ قرار دیدیا۔

  محمد صادق نے کہا کہ طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان، ETIM، داعش خراسان اور القاعدہ کا گٹھ جوڑ خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان، ETIM، داعش خراسان اور القاعدہ افغان سرزمین پر بدستور بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔ افغانستان سے ابھرتی دہشتگردی پاکستان اور خطے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے

انہوں نے کہا کہ 3 سال میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں 4,700 سے زائد پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پاکستان مزید ایسی صورتحال برداشت نہیں کر سکتا ۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں میں طالبان رجیم شریک ہے۔   محمد صادق نے کہا کہ افغان سرزمین پر دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پاکستان کے حقِ دفاع اور عالمی قانون کے تحت کی جا رہی ہیں۔ 

پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشتگردی کارروائیاں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگرد حملوں کے جواب میں اور دفاعی نوعیت کی ہیں۔ پاکستانی کارروائیاں صرف افغان سرزمین پر موجود ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف ہیں جو پاکستان اور خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و سفارتی کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری رہا ۔پاکستان کے خیرسگالی اقدامات کے باوجود افغان سرزمین سے دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوا۔ طالبان رجیم سے دہشتگرد گروہوں کو افغان سرزمین پر حاصل استثنیٰ ختم کرنے اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا۔خواتین پر پابندیاں، لڑکیوں کی تعلیم سے محرومی اور جامع حکمرانی کا فقدان افغانستان کے استحکام میں رکاوٹ ہیں۔

محمد صادق نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے، مگر افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ علاقائی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ افغانستان میں امن کے لیے دہشتگردی کے خاتمے، خواتین کے حقوق اور سیاسی شمولیت کے معاملات پر عملی پیش رفت ضروری ہے۔

Watch Live Public News