ویب ڈیسک: بھارت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور شہریوں کا احتجاج جاری ہے، مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی اور نئی دہلی سمیت مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں اپوزیشن رہنماؤں نے ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام خارج کیے جانے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھائے۔
راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں احتجاجی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے SIR کا عمل واپس لینے اور انتخابی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا، جبکہ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں مبینہ تبدیلی کا معاملہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اس نے فارم 6 کے کسی ترمیم شدہ ورژن کی منظوری نہیں دی اور الیکشن کمیشن سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے یہ جاننے کی ہدایت کی ہے کہ فارم میں تبدیلی کس نے کی۔
رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن کے دو ارکان سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بھی فارم 6 میں تبدیلی کے طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اصل فارم 6 میں تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ SIR کے دوران اضافی ڈیکلریشن شامل کیا گیا تھا۔
اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھا رہی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور SIR کو ووٹر لسٹوں کی درستگی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔