دہلی میں حکومت مخالف احتجاج  میں شدت، ہزاروں نوجوان سڑکوں پر

 دہلی میں حکومت مخالف احتجاج  میں شدت، ہزاروں نوجوان سڑکوں پر

(ویب ڈیسک ) بی بی سی کے مطابق بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کی تحریک  شدت اختیار کر گئی۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ   کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے احتجاج کی کال پر پیر کو دہلی میں پارلیمان کے قریب ہزاروں افراد جمع ہو گئے۔   کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی اور تیزی سے قومی مزاحمتی علامت بن گئی ہے۔

بی بی سی کے مطابق   نئی دہلی میدان جنگ بن گیا، ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔  نوجوانوں کی نمائندہ “ کاکروچ جنتا پارٹی” کا پارلیمنٹ کی جانب مارچ، پولیس  نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

سی جے پی نے آج پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر جنتر منتر سے پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا تھا-

بی بی سی کا کہنا ہے کہ   دفعہ 163 کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی  عائدکر دی گئی، مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آمدورفت محدود کردی گئی۔  نئی دہلی کو متعدد سکیورٹی زونز میں تقسیم کرکے پولیس و نیم فوجی دستوں کی بڑی نفری تعینات کردی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رکاوٹوں کے باوجود پارلیمنٹ مارچ کے لیے طلبہ، نوجوان، خواتین اور بزرگ اتوار کی رات سے ہی جنتر منتر پہنچنا شروع ہو گئے۔  رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

متعدد مظاہرین حراست میں لیے گئے، جبکہ کثیر تعداد میں مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

ترجمان کاکروچ جنتا پارٹی سوربھ داس کا کہنا ہے کہ   حکام نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین  نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، امتحانی اصلاحات اور متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن جماعتوں  نے   پولیس کارروائی کی مذمت  کی۔  بنگلورو، ممبئی اور گوا سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے۔

بھارتی میڈیا کے  مطابق  ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن سونم وانگچک کی نوجوانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اکیس روز سے  بھوک ہڑتال پر ہیں۔   پولیس نے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے زبردستی صفدرجنگ اسپتال منتقل کردیا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ  بڑھتی بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے باعث بی جے پی حکومت شدید عوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے ۔ جاری احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔احتجاجی مظاہروں نے بھارتی سیاست میں بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔ بھارتی معاشرے میں موجود اندرونی اختلافات اور تقسیم مزید نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

Watch Live Public News