بھارت میں وقف قانون کی آڑ میں مسلمانوں کی زمین پر قبضے کا نیا تنازع

بھارت میں وقف قانون کی آڑ میں مسلمانوں کی زمین پر قبضے کا نیا تنازع
کیپشن: بھارت میں وقف قانون کی آڑ میں مسلمانوں کی زمین پر قبضے کا نیا تنازع

ویب ڈیسک: تلنگانہ کے حیدرآباد میں بھارتی فوج نے تقریباً 400 سال پرانی مسلم وقف زمین پر اعتراض کرتے ہوئے اسے وزارتِ دفاع کی ملکیت قرار دے دیا۔

جوبلی ہلز/شیخ پیٹ میں واقع تقریباً 2,500 مربع گز زمین مسلمانوں کے قبرستان کے لیے مختص کی گئی تھی، لیکن فوجی حکام نے وہاں اہلکار تعینات کرکے رسائی محدود اور کام بند کرا دیا۔ مقامی مسلمانوں نے قبرستان کی زمین تک رسائی اور تدفین میں مشکلات پر احتجاج کیا ہے۔ وقف بورڈ کے چیئرمین سید عظمت اللہ حسینی کا کہنا ہے کہ یہ گزٹ شدہ وقف زمین ہے اور اس کے باقاعدہ دستاویزات بھی موجود ہیں۔ یہ زمین تاریخی عیدگاہ، چوکَنڈی مسجد اور قبرستان سے منسلک ہے، جن کی تاریخ قطب شاہی دور، تقریباً 1633–1634ء تک جاتی ہے۔

یہ مذہبی مقام تقریباً چار صدیوں سے مسلمانوں کی عبادت، تدفین اور تاریخی ورثے سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود گولکنڈہ کے فوجی حکام نے زمین اور اس سے ملحق راستے کو دفاعی ملکیت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی رسائی محدود کر دی ہے، جبکہ زمین کی ملکیت کا تنازع ابھی حل نہیں ہوا۔ شیخ پیٹ میں وقف بورڈ کے دستاویزی دعوے کے باوجود مسلمانوں کے تدفینی حقوق متاثر ہیں۔

 ناقدین کے نزدیک   بھارت میں مسلم وقف زمین کی قانونی حیثیت اور مذہبی حقوق کو ریاستی اداروں کے دعوؤں کے سامنےکوئی  تحفظ حاصل نہیں ہے۔ یہ صرف ایک زمینی تنازع نہیں بلکہ مودی حکومت کے دور میں مسلم اور وقف املاک پر بڑھتے سرکاری، قانونی اور فوجی دباؤ کے وسیع تر مسئلے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

Watch Live Public News