(ویب ڈیسک) معرکۂ حق کے بعد بھارت کا سائبر غرور خاک میں مل گیا؛ خود کو ’’وشو گرو‘‘ کہنے والے بھارت کے ڈیجیٹل دفاع کی سنگین کمزوریاں سامنے آگئیں۔
آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی سائبر فورس نے منظم اور ہدفی کارروائیوں میں 54 بھارتی سرکاری ویب سائٹس اور اہم کمپیوٹر وسائل کو نشانہ بنایا۔
حساس بھارتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر دباؤ نے نئی دہلی کے ان سائبر سکیورٹی خلا کو نمایاں کر دیا جنہیں بڑے بڑے دعوؤں کے پیچھے چھپایا جاتا رہا۔
اپنی کمزوریوں کا جواب دینے کے بجائے بھارتی حکام نے ایک سال بعد بڑے پیمانے پر ’’ہنٹنگ آپریشنز‘‘ اور چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے پانچ ریاستوں میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے، جبکہ کیس میں دو افراد پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے تھے۔
فرانزک جانچ کے بعد بھارتی تفتیش کاروں نے ایک نام نہاد وسیع نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کیں ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ’’غیر ملکی روابط‘‘ کا لیبل نئی دہلی اپنی سائبر ناکامیوں اور دفاعی خامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہا ہے؟
بھارت جن چھاپوں کو کامیابی بنا کر پیش کر رہا ہے، وہ خود اس بات کا ثبوت بن گئے کہ سائبر محاذ پر ہونے والی کارروائیاں معمولی نوعیت کی نہیں تھیں۔
بھارتی اداروں کی گرفتاریوں، چھاپوں اور فرانزک تحقیقات نے معرکۂ حق کے دوران سامنے آنے والی ڈیجیٹل کمزوریوں کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا۔
’’ناقابلِ تسخیر بھارت‘‘ کے دعوے اپنی جگہ، مگر سوال برقرار ہے کہ اہم سرکاری ویب سائٹس اور ڈیجیٹل نظام اتنے بڑے پیمانے پر خطرے میں کیسے آئے؟
پاکستان کی سائبر فورس نے اپنی صلاحیت میدانِ عمل میں دکھائی، جبکہ بھارتی ادارے ایک سال بعد بھی انہی کارروائیوں کے اثرات کی چھان بین کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
خود کو دنیا کا ’’وشو گرو‘‘ کہنے والے بھارت کے لیے یہ واقعہ اس کے ڈیجیٹل دفاع اور سائبر تیاریوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا۔
معرکۂ حق کا پیغام واضح تھا: جدید جنگ زمین، فضا اور سمندر کے ساتھ سائبر میدان میں بھی لڑی جاتی ہے، اور اس محاذ پر بھارت کی کمزوریاں نمایاں ہوئیں۔
معرکۂ حق میں سائبر محاذ پر برتری پاکستان کے پاس رہی، اور ایک سال بعد بھارتی کارروائیوں نے اس مقابلے کی شدت کو خود اجاگر کر دیا۔