(ویب ڈیسک) 16 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں طالبان رجیم کی 5 سالہ حکمرانی، دہشتگردی، انسانی حقوق اور علاقائی سلامتی زیرِ بحث آئے۔ رکن ممالک اور UNAMA کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردی، انسانی حقوق، سیاسی عدم شمولیت اور علاقائی سلامتی پر اظہارِ تشویش کیا گیا۔
امریکا کا مؤقف:
سلامتی کونسل میں امریکی سفیر مائیک والٹز کی طالبان رجیم پر شدید تنقید کی۔مائیک والٹنر نے کہا کہ عالمی دنیا کو افغان سرزمین پر دہشت گردی کی سرپرستی اور طالبان مظالم کی مذمت کرنی چاہیے،طالبان رجیم امریکی شہریوں سمیت مختلف ممالک کے شہریوں کو یرغمال بنا کر سیاسی دباؤ اور رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے طالبان رجیم کے زیر تسلط افغانستان کو State Sponsor of Wrongful Detention کے طور پر نامزد کیا،طالبان رجیم کے 5 سالہ دور میں افغان عوام پر جبر، خوف اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رہیں،طالبان رجیم کی پابندیوں سے 22 لاکھ افغان لڑکیاں تعلیم سے محروم، خواتین اور لڑکیوں کی ثانوی و اعلیٰ تعلیم پر پابندی برقرار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ عمل کا راستہ طالبان رجیم کے غیر سنجیدہ رویے اور وعدوں کی خلاف ورزیوں سے بند ہو رہا ہے،طالبان رجیم نے افغان خواتین کو اقوام متحدہ کے احاطوں میں داخلے سے بھی روک رکھا ہے، پابندی کو ایک سال مکمل ہو چکا۔
پاکستان کا مؤقف:
سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخاراحمد نے افغانستان میں بڑھتی دہشتگردی کو بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان ایک بار پھر متعدد دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا،TTP،BLA، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ETIM سمیت دہشتگرد گروہوں اور طالبان رجیم کے گہرے گٹھ جوڑ نے افغان بحران مزید سنگین کر دیا ، افغانستان میں موجود ڈرونز، جدید ہتھیار اور اربوں ڈالر مالیت کا چھوڑا گیا اسلحہ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی غیر قانونی معیشت دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو سہولت دے رہی ہے، UNAMA سے ہنڈی اور حوالہ نیٹ ورکس پر رپورٹنگ کا مطالبہ کیا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ طالبان رجیم کی انتہائی مرکزی طرز حکمرانی میں سیاسی شمولیت کا فقدان، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور خواتین پر پابندیاں مزید سخت ہو رہی ہیں۔
ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس کا ردِعمل:
سلامتی کونسل میں ڈنمارک کے نائب مستقل نمائندے ایرک لارسن نے افغانستان میں دہشتگردی، انسانی حقوق اور انسانی امداد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایرک لارسن نے کہا کہ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کی افغان سرزمین پر موجودگی افغانستان، پڑوسی ممالک اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین تشویش ہے،طالبان رجیم سے افغان سرزمین پر سرگرم تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سلامتی کونسل میں برطانیہ کی نائب مستقل مندوب کیٹ فوسٹر نے طالبان رجیم کے خلاف سخت تنقید کی۔کیٹ فوسٹر نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف بامعنی کارروائی پر زور دیا۔
کیٹ فوسٹر نے کہا کہ طالبان رجیم کو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پامال کرنے کے بجائے تمام افغانوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام کرنا ہوگا ۔
سلامتی کونسل میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ 5 سال میں طالبان رجیم نے افغانستان کو تفریق زدہ ملک بنا کر ترقی کی راہ روک دی۔انہوں نے کہا کہ داعش خراسان، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی موجودگی افغانستان اور خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔
روس اور چین کے بیانات:
روسی نمائندہ واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ داعش خراسان اور ETIM کی موجودگی روس کے لیے بدستور باعث تشویش ہے،شام اور عراق میں جنگی تجربہ رکھنے والے غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی پر روس کی خصوصی تشویش ہے۔
چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے سلامتی کونسل میں دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا۔سن لی نے افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ، ETIM اور ٹی ٹی پی کی موجودگی کو دہشتگردی کا بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے بلاامتیاز کارروائی پر زور دیا۔
اقوام متحدہ مشن (UNAMA) اور سابق افغان نمائندے کا مؤقف:
سلامتی کونسل میں UNAMA کی نائب خصوصی نمائندہ جیورجیٹ گگنن نے افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کو افغانستان، خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ قرار دیا۔
جیورجیٹ گگنن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی بنیادی مسئلہ ہے، افغانستان میں درپیش خطرات طالبان رجیم کی اپنی پالیسیوں سے پیدا ہو رہے ہیں۔
سلامتی کونسل میں سابق افغان جمہوریہ کے نمائندے نصیر احمد فائق نے طالبان رجیم پر دہشتگرد گروہوں کو افغان سرزمین پر سرگرمی کی اجازت دینے پر سخت تنقید کی۔ نصیر احمد فائق نے کہا کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہ موجود ہیں،5 سالہ طالبان اقتدار میں جامع سیاسی نظام اور جوابدہ ادارے قائم نہ ہو سکے،طالبان رجیم کا افغانستان پر علاقائی کنٹرول سیاسی جواز یا عوامی قبولیت کا متبادل نہیں۔