افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سہ ماہی رپورٹ جاری

افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سہ ماہی رپورٹ جاری
کیپشن: افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سہ ماہی رپورٹ جاری

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغانستان کی صورتحال اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر اس کے اثرات سے متعلق سہ ماہی رپورٹ جاری کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے پانچ سالہ اقتدار میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں، سیاسی عدم شمولیت، معاشی مشکلات اور بنیادی خدمات تک رسائی کے مسائل برقرار ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق طالبان حکومت میں اہم فیصلوں کا مرکز امیرِ طالبان ہبت اللہ اخوندزادہ ہیں، جبکہ فیصلہ سازی کا عمل غیر شفاف ہے اور اہم عہدوں پر وفادار افراد کو تعینات کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں متفقہ آئین کے بجائے ہبت اللہ اخوندزادہ کے احکامات کے ذریعے حکمرانی جاری ہے۔

رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق داعش خراسان کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر گروہوں کی موجودگی برقرار ہے، جبکہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ خطے کی سکیورٹی کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے۔

یکم مئی سے 31 جولائی 2026 کے دوران افغانستان میں 2,947 پرتشدد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ طالبان مخالف گروہوں نے 21 صوبوں میں 88 کارروائیاں کیں۔ صرف جولائی میں مزاحمت کے 30 حملے رپورٹ ہوئے۔

خواتین اور انسانی حقوق کی صورتحال
اقوام متحدہ کے مطابق خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں بدستور جاری ہیں۔ تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ پابندیوں کے باعث خواتین کی صحت، روزگار، انسانی امداد اور نقل و حرکت تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 6 اور 7 جون کو ہرات میں لباس ضابطے کی خلاف ورزی پر 30 خواتین کو گرفتار کیا گیا۔ سابق افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کے خلاف بھی یکم مئی سے 31 جولائی تک ہلاکتوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

انسانی امداد کے حوالے سے اقوام متحدہ نے بتایا کہ یکم اپریل سے 30 جون تک 159 رکاوٹوں کے واقعات سامنے آئے، جن کے باعث 86 امدادی سرگرمیاں معطل ہوئیں اور 21 امدادی کارکن حراست میں لیے گئے۔

رپورٹ میں منشیات کی اسمگلنگ، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی افغانستان سے سرحد پار اسمگلنگ میں اضافے کو بھی علاقائی تشویش قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے طالبان پر زور دیا ہے کہ خواتین کے حقوق بحال کیے جائیں، میڈیا کی آزادی یقینی بنائی جائے، عام معافی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکا جائے اور جسمانی سزاؤں کا خاتمہ کیا جائے۔

Watch Live Public News