ویب ڈیسک: ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت پر "طالبان 2.0: دی فائیو ایئر لیجر" کے عنوان سے تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ میں 15 اگست 2021 سے اب تک طالبان حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا مجموعی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں صحت، تعلیم، سکیورٹی، خواتین کے حقوق اور خارجہ پالیسی پر اعداد و شمار کے ساتھ تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم اپنی عوام اور عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنے میں یکسر ناکام رہی۔ طالبان رجیم مسلسل دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ طالبان رجیم نے 2020 کے دوحہ معاہدے کی تین بنیادی شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ 2020,21 میں رہا کیے گئے 5 ہزار طالبان قیدی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوراً جنگ میں شامل ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی دوسری بنیادی شرط کے برخلاف طالبان نے پچھلی حکومت سے مذاکرات کی بجائے عسکری طاقت سے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ معاہدے کی تیسری بنیادی شرط کے برخلاف طالبان رجیم نے افغانستان کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا دیا۔ یہی عناصر پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ افغانستان پانچ سال میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا؛ ملک میں 20 سے زائد عسکریت پسند تنظیمیں اور 13 ہزار تک غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی، داعش خراسان، القاعدہ اور دیگر تنظیمیں اپنی کاروائیوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔ صرف ٹی ٹی پی کی نفری 6 سے ساڑھے 6 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے جس میں 300 سے زائد افغان شہری بھی ملوث پائے گئے۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ طالبان کی نوے کی دہائی اور حالیہ سوچ و حکمت عملی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ شدت پسندانہ نظریات، جابرانہ اقدامات اور غیر انسانی پالیسی نے افغان عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ پوری دنیا میں سوائے روس کے کسی نے بھی پانچ سال میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر میں قیام اور میڈیا پر آنے کے باوجود طالبان کی سوچ اور شدت پسندانہ نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ طالبان رجیم میں موجود 4 دھڑے تجارت اور معدنیات کی کمائی کی تقسیم پر آپس میں ہی گھتم گھتا ہیں۔ افغانستان میں خواتین کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیے گئے؛ 11 لاکھ سے زائد لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں۔ خواتین کو تعلیم، روزگار اور دیگر زندگی کے شعبوں سے دور کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شرح 22 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد رہ گئی۔ 547 میں سے 219 میڈیا ادارے بند ہو چکے، صحافیوں کی تعداد 11 ہزار 857 سے کم ہو کر 4 ہزار 759 رہ گئی۔ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں افغانستان 180 ممالک میں سے 175ویں نمبر پر آ گیا۔ بچوں اور خواتین میں غذائی قلت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، قریباً 49 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ افغانستان کی معیشت کو 2021 سے اب تک مجموعی طور پر 25 فیصد سکڑاؤ کا سامنا ہے۔ دنیا کو اب باور کرنا ہوگا کہ افغان حکومت کے اقدامات افغان عوام اور عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ ہیں۔