(ویب ڈیسک) بی بی سی کی چشم کشا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کی بدترین اور ناقص پالیسیوں نے بھارت کے معتبر ترین سائنسی ادارے' اسرو(ISRO)' کی بنیادیں ہلا دیں۔
مودی سرکار نے ' اسرو' کا اربوں کا سائنسی اثاثہ نجی سرمایہ داروں کی جھولی میں ڈال دیا۔ بی بی سی کے مطابق مودی سرکار نے خلائی ادارے ' اسرو' کو کمرشل راکٹ سازی سے الگ کر کے خلائی شعبے کو نجی سرمایہ داروں کے حوالے کر دیا۔’ اسرو‘ کے سائنسدانوں نے خلائی آپریشنز نجی کمپنیوں کو منتقل کرنے پرسربراہ سے تحریری وضاحت طلب کرلی۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی 2020ء کی متنازع خلائی پالیسی کے تحت بھارت میں 445 نجی خلائی کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں، نجی شعبے کی پرکشش تنخواہوں کے سامنے سرکاری ادارہ ' اسرو' اپنے سائنسدانوں کو سنبھالنے میں مکمل ناکام ہو چکا، انڈین خلائی ادارے میں سائنسدانوں کے انخلا اور ملازمتوں کا بحران بھی سنگین ہو گیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق گزشتہ ایک سال میں 120 سے زائد باصلاحیت سائنسدان ' اسرو' کو خیرباد کہہ گئے،ایل وی ایم-3، چندریان-3 اور SpaDeX جیسے اعلیٰ ترین قومی منصوبوں کے سینئر ترین سائنسدان بھی ادارہ چھوڑ گئے،لانچ وہیکل مارک تھری کے ڈائریکٹر وکٹر جوزف سمیت متعدد سینئر ماہرین شدید دباؤ کے باعث پروجیکٹس ادھورے چھوڑ گئے۔
بی بی سی کا مزید کہنا ہے کہ سابق چیئرمین مادھون نائر کے مطابق منموہن سنگھ دور کے برعکس مودی حکومت نے سائنسدانوں کی تمام مراعات ختم کر دیں، ' اسرو' کی 9 نمائندہ تنظیموں نے ادارہ چھوڑنے کے رجحان اور نجی شعبے کی بے جا مداخلت پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔جولائی میں 'سکائی روٹ' کے نجی راکٹ سے سیٹلائٹ خلا میں بھیجے جانے کے بعد اسرو کی دہائیوں پرانی اجارہ داری ختم ہو گئی۔ اسرو کی 120 جدید ترین ٹیکنالوجیز اور ایس ایس ایل وی (SSLV) حقوق بھی نجی کمپنیوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ بی جے پی حکومت نجی کمپنیوں کو 30 فیصد عالمی خلائی مارکیٹ پر قبضہ دلانے کے لیے اسرو کے بنیادی حقوق قربان کر رہی ہے۔
سربراہ 'ان سپیس' ڈاکٹر پون کمار گوئنکا کا کہنا ہے کہ "اب ' اسرو' مصنوعی سیارے چھوڑنے والا کوئی راکٹ نہیں بنائے گا" ' اسرو' اب کمرشل راکٹ سازی کے بجائے صرف 2035ء تک خلائی اسٹیشن اور 2040ء تک چاندکے مشنز تک محدود رہے گا۔
سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تکنیکی اداروں پر سیاسی تسلط نے انڈیا کے نام نہاد جمہوری اور ترقی پسند چہرے کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔