مودی کا ہندوتوا ایجنڈا BRICS عشائیے تک پہنچ گیا، گوشت مینیو سے غائب

مودی کا ہندوتوا ایجنڈا BRICS عشائیے تک پہنچ گیا، گوشت مینیو سے غائب
کیپشن: مودی کا ہندوتوا ایجنڈا BRICS عشائیے تک پہنچ گیا، گوشت مینیو سے غائب

ویب ڈیسک: بھارت میں BRICS اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کے لیے دیے گئے عشائیے کے مینو پر سیاسی بحث چھڑ گئی۔ بھارتی اپوزیشن کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ مہمان رہنماؤں کے لیے صرف سبزی پر مشتمل کھانے پیش کیے گئے اور مینو میں گوشت کی کوئی ڈش شامل نہیں تھی۔

کانگریس نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی معاشرے میں بڑی تعداد غیر سبزی خور افراد کی ہے، اس لیے عالمی رہنماؤں کے لیے یکساں سبزی خور مینو رکھنا مناسب نہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری تقریبات میں غذائی انتخاب کو مذہبی و نظریاتی ترجیحات سے جوڑنا بھارت کے تکثیری اور ثقافتی تنوع کے دعووں پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت پر پہلے ہی ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

بھارت دنیا کے بڑے گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں بھی شامل ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مہمانوں کے لیے گوشت نہ پیش کرنا حکومت کی ثقافتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارت میں 2015 سے 2018 کے دوران گائے کے گوشت سے متعلق تشدد کے واقعات میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 36 مسلمان تھے۔

ناقدین کے مطابق BRICS جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارم پر مہمانوں کے لیے کھانے کے انتخاب میں ثقافتی اور غذائی تنوع کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا۔

Watch Live Public News