ویب ڈیسک: بھارت کی منافقت بے نقاب: اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے مودی کے ازبکستانی تمغےاور بی جے پی- آر ایس ایس کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ازبکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ملنے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے بابُر اور مغل تاریخ سے متعلق بیانیے پر سخت سوال اٹھا دیے۔ اویسی نے نشاندہی کی کہ ایک طرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ سیاسی بیانیے میں بابُر اور مغل دور کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف مودی نے اسی ملک سے اعلیٰ ترین اعزاز قبول کیا جس کا تعلق بابُر کی جائے پیدائش سے ہے۔
بابُر وہی تاریخی شخصیت ہے جس کے نام کو بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ سیاسی بیانیے میں برسوں سے مغل دور اور ہندوستان کی مسلم تاریخ کو نشانہ بنانے اور ووٹروں کو پولرائز کرنے کے لیے بارہا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ بھارت میں مغل بادشاہوں کے نام سے منسوب سڑکوں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے اور مغل تاریخ کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانے کی کوششوں کے پس منظر میں اویسی نے مودی کے ازبکستانی اعزاز کو ایک واضح سیاسی تضاد قرار دیا۔
اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا: “آپ بابُر کے نام پر اتنی توہین آمیز باتیں کرتے تھے، لیکن آج اسی ملک کے لوگ آپ کو اعزاز دے رہے ہیں۔”
انہوں نے آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس تضاد پر غور کرنا چاہیے اور بابُر کے نام کو بھارتی سیاست میں سیاسی طعنہ بنانے کے اپنے بیانیے کا جائزہ لینا چاہیے۔
اویسی نے مودی کے مسلسل غیر ملکی اعزازات پر طنز کرتے ہوئے کہا: “آج کل وزیرِ اعظم جہاں بھی جاتے ہیں، ایک ایوارڈ لے کر واپس آتے ہیں، مبارک ہو۔”
ایک طرف بابُر اور مغل نام مٹانے یا ان کی تاریخ کو نشانہ بنانے کی سیاست، دوسری طرف بابُر کی سرزمین ازبکستان سے اعزاز—اویسی نے مودی حکومت کے سامنے یہی بڑا سیاسی سوال کھڑا کر دیا۔ بابُر پر سیاست کرنے والوں کے لیے اویسی کا پیغام واضح ہے: اگر ازبکستان کا اعزاز قابلِ فخر ہے تو پھر بابُر کے نام اور مغل تاریخ کو سیاسی نفرت کا ہتھیار کیوں بنایا جاتا ہے؟
بابُر کی پیدائش فرغانہ وادی میں ہوئی تھی، جو آج کے ازبکستان میں واقع ہے، اور اویسی نے اسی تاریخی حقیقت کو BJP-RSS کے بابُر مخالف سیاسی بیانیے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ یہ معاملہ محض ایک سفارتی اعزاز نہیں، بلکہ اویسی کے مطابق BJP-RSS کے تاریخی اور سیاسی بیانیے کے تضاد کو بے نقاب کرنے والا موقع بن گیا ہے۔
گھر میں بابُر اور مغل تاریخ پر سیاست، بیرونِ ملک اسی تاریخی پس منظر والی سرزمین سے اعزاز—اویسی نے BJP اور RSS کے اس مبینہ دوہرے معیار کو سب کے سامنے لا کھڑا کیا۔
کیپشن: اسدالدین اویسی نے مودی کے ازبکستانی تمغےاور بی جے پی-آر ایس ایس کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا