ویب ڈیسک: مزاحمتی فورسز افغانستان میں طالبان کے جبر و تشدد کے خلاف ڈٹ گئی۔ کپیسہ، ہلمند، زابل، بدخشان اور ہرات میں طالبان کے خلاف عوامی و عسکری محاذ گرم ہوگیا۔
کپیسہ، ہلمند، زابل اور بدخشان میں طالبان کے انٹیلی جنس اور عسکری ٹھکانے نشانے پر آگئے۔ 9 ستمبر کو کپیسہ کے ضلع تگاب میں سابق افغان آرمی بیس پر قائم طالبان چوکی پر اے ایف ایف نے حملہ کیا۔ حملے میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 دیگر زخمی۔ 11 ستمبر کو ہلمند کے لشکرگاہ شہر میں طالبان رجیم کے 2 اہلکار اے یو ایف کے ٹارگٹڈ حملے کا نشانہ بن گئے۔ 11 ستمبر کو زابل میں کور 205 کی تیسری بریگیڈ سے وابستہ طالبان اہلکار اے یو ایف کے نشانے پر آگیا۔ حملے میں طالبان اہلکار ہلاک ہوا۔
At around 8:00 p.m. on Wednesday, September 9, 2026, freedom fighters of the Afghanistan Freedom Front (AFF) attacked a Taliban outpost stationed at the former Afghanistan National Army base in Tagab district of Kapisa province.
— Afghanistan Freedom Front (@FREEDOMFRONTAFG) September 10, 2026
As a result of the attack, three Taliban members… pic.twitter.com/WDIsbDBwUa
11 ستمبر کو ہرات شہر کے 28 مختلف مقامات پر اے یو ایف کی جانب سے قیادت کے پیغامات اور علما کے فتوے عوام میں تقسیم کیے گئے۔ لالہ می مارکیٹ، قلعہ اختیارالدین، مصطفائٹ چوک، باغ ملت اور چہار باغ سمیت اہم علاقوں میں پیغامات کی تشہیر کی گئی۔ 10 ستمبر کو بدخشان کے یفتل پایان میں طالبان چوکی پر این آر ایف نے بھرپور حملہ کیا۔ 40 منٹ طویل جھڑپ میں 3 طالبان اہلکار زخمی ہوئے۔ مزاحمتی فورسز نے طالبان رجیم کے خلاف کثیر الجہتی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔