طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں ایک بار پھر تیزی، مختلف محاذوں پر یکے بعد دیگرے حملے اور جھڑپیں

طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں ایک بار پھر تیزی، مختلف محاذوں پر یکے بعد دیگرے حملے اور جھڑپیں

(ویب ڈیسک )گزشتہ چند روز میں طالبان رجیم کے انٹیلی جنس، پولیس، امر بالمعروف اور عسکری اہلکاروں سمیت مختلف اہداف نشانے پر آئے۔قندھار، خوست، غزنی، کنڑ اور بدخشان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں  متعدد طالبان اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔قندھار سے بدخشاں اور غزنی سے کنڑ تک مزاحمتی کارروائیوں نے طالبان رجیم کے سکیورٹی نظام کو دباؤ میں ڈال دیا۔

قندھار اور خوست میں اے یو ایف کے حملے:

9  ستمبر کو قندھار کے 15ویں ضلع میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے طالبان کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا۔ اسی روز خوست میں اے یو ایف کی دوسری کارروائی کے دوران طالبان امر بالمعروف کے سینئر اہلکار محمد ولی جان عدالت یار کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔

انٹیلی جنس اہلکاروں کو نشانہ بنانا:

اس سے قبل 6 ستمبر کو قندھار کے علاقے پلِ نساجی میں اے یو ایف کے حملے میں طالبان انٹیلی جنس کا اہلکار مارا گیا، جبکہ اسی روز غزنی میں بھی ایک اور انٹیلی جنس اہلکار کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 8 ستمبر کو بدخشاں کے ضلع کشم میں بھی طالبان کے ایک اہلکار کو نشانہ بنایا گیا۔

کنڑ فوجی اڈے پر حملہ:

8  ستمبر کو کنڑ میں سابق افغان آرمی بیس کے مرکزی داخلی دروازے پر موجود طالبان اجتماع کو افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

بدخشاں میں جھڑپیں اور این آر ایف کی پیش قدمی:

7  ستمبر کو بدخشاں کے زیبک ضلع میں طالبان نے اے ایف ایف کے ٹھکانوں پر دھاوا بولا، تاہم کمانڈوز کی شدید جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ اسی روز شمال مشرقی بدخشاں کے ضلع کوہستان راغ میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 1 طالبان اہلکار کو ہلاک اور 6 کو زخمی کر دیا۔

Watch Live Public News