ویب ڈیسک: بین الاقوامی میڈیا ادارے ریڈیو فری یورپ نے انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی اور القاعدہ کا باہمی گٹھ جوڑ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا، جس نے ٹی ٹی پی کی حملہ آور صلاحیت میں اضافہ کیا۔ افغان سر زمین سے پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں میں القاعدہ کی معاونت کے شواہد موجودہیں۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق اقوام متحدہ کی دسمبر 2025 رپورٹ نے القاعدہ کو افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کے لیے تربیت، مشاورت اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے والا ایک سروس پرووائیڈر قرار دیا۔ القاعدہ ٹی ٹی پی کی حکمت عملی، پروپیگنڈا اور تربیتی صلاحیتوں کو شکل دینے میں مدد دے رہی ہے، جس سے پاکستان کے خلاف حملوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ اپریل2026 میں القاعدہ کے میڈیا ونگ الصحاب میڈیا نے پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی کھل کر حمایت کی۔ اقوام متحدہ کی اگست 2026رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی ٹی ٹی پی کو رہنمائی، تربیت اور معاونت کی فراہمی کا سلسلہ اب کھلی حمایت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق القاعدہ 2020 سے ٹی ٹی پی کو القاعدہ میں ضم ہونے اور الگ تنظیمی حیثیت ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کوشش کو افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور AQIS سمیت دیگر دہشت گرد وں کو افغانستان میں رہائش، وظائف اور مقامی شناختی دستاویزات فراہم کیں۔ افغانستان میں القاعدہ کی معاونت ٹی ٹی پی تک محدود نہیں رہی بلکہ فتنۃ الہندوستان (BLA) سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں تک بھی پھیل گئی ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق اگست 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ القاعدہ فتنۃ الہندوستان (BLA) کے دہشت گرد وں کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اتحاد المجاہدین پاکستان کو AQIS کی جانب سے تربیت اور حکمت عملی میں معاونت حاصل ہے۔ سرحد پار سے مسلسل دہشتگرد حملوں کے ردِعمل میں پاکستان نے افغان سرحد پار فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنایا۔