ویب ڈیسک: 9/11کے 25 سال بعد عالمی جہادی خطرے کی نوعیت تبدیل ہو چکی، القاعدہ محض غیر ریاستی دہشت گرد تنظیم نہیں رہی بلکہ القاعدہ اب کمزور، منقسم یا شدت پسندوں کے زیرِاثر ممالک میں ریاستی نظام کے اندر جگہ بنانے والا نیٹ ورک بن چکی ہے۔ افغانستان، یمن، صومالیہ اور لیبیا جہادی تنظیموں کے ریاستی ڈھانچوں میں سرایت کرنے کی نمایاں مثالیں ہیں۔
صومالی محقق گولید احمد کا 9/11 کے 25 سال مکمل پر عالمی دہشتگرد تنظیموں پر تفصیلی مقالہ شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان عالمی جہادی نیٹ ورکس کے لیے دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ افغانستان صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں، ریاستی سرپرستی اور علاقائی روابط کے باعث جہادی نیٹ ورکس کا اہم رابطہ مرکزہے۔ افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی، الشباب، داعش اور دیگر شدت پسند نیٹ ورکس سفری، تربیتی، مالی اور سہولت کاری روابط میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغان سرزمین، طالبان، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کے درمیان رابطوں اور باہمی ٹرینگ سیکھنے کا ماحول فراہم کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کو اب صرف محفوظ پناہ گاہ نہیں بلکہ ریاستی طرز کی حکمرانی، وسائل اور طویل المدتی بقا کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کا بدلتا ہوا ڈھانچہ9/11کے بعد دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے لیے نیا چیلنج ہے۔ ہتھیار، لاجسٹکس، مالی معاونت ، اسمگلنگ اور مشترکہ دشمن جہادی نیٹ ورکس کے باہمی تعاون کی بنیاد بن رہے ہیں۔ القاعدہ افغانستان کو صومالیہ، یمن، شام اور دیگر خطوں میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے درمیان رابطے کے اہم ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہادی تنظیموں کے ریاستی یا نیم ریاستی ڈھانچوں میں انضمام کو نظرانداز کرنا سنگین تزویراتی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔ القائدہ، الشباب کو طالبان کی طرح صومالیہ میں حکومت قائم کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ افغانستان میں الشباب کی موجودگی نظریاتی وابستگی سے آگے بڑھ کر عملی روابط، عسکری تعاون اور تنظیمی تربیت تک پہنچ گئی۔ الشباب کی قیادت کے 2022 سے 2026 کے دوران افغانستان کے متعدد دوروں کا انکشاف، طبی علاج، عسکری مشاورت اور تنظیمی رابطے، دوروں کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ الشباب کا وفد براستہ یمن افغانستان پہنچا۔ القاعدہ کے تربیتی کیمپوں تک رسائی حاصل کی۔ الشباب کے امیر احمد دیریے سمیت سینئر کمانڈرز کے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ سے منسلک عناصر سے رابطوں کا انکشاف ہوا۔
الشباب کے ارکان نے ٹی ٹی پی سے بھی ملاقات کی پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی طویل شورش اور گوریلا حکمتِ عملی کا جائزہ لیا ۔