پاکستان میں قید رہنے والے بدنام زمانہ بھارتی فائٹر پائلٹ ابھینندن کی بدنامی کا سلسلہ جاری

پاکستان میں قید رہنے والے بدنام زمانہ بھارتی فائٹر پائلٹ ابھینندن کی بدنامی کا سلسلہ جاری
کیپشن: پاکستان میں قید رہنے والے بدنام زمانہ بھارتی فائٹر پائلٹ ابھینندن کی بدنامی کا سلسلہ جاری

ویب ڈیسک: پاکستان میں قید رہنے والے بدنام زمانہ بھارتی فائٹر پائلٹ ابھینندن کی بدنامی کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارت کا 2019 کا’’نام نہاد ہیرو ‘‘ ابھینندن بھارتی فضائیہ سےقبل از وقت ریٹائر ہوا۔ ابھینندن ایک “منفرد” فائٹر پائلٹ تھا جو اپنے ہی ملک کی عزت اور ساکھ کے خلاف مسلسل لڑتا رہا۔ ابھینندن کو بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بننے پر ترقی نہیں دی گئی تھی۔  نظرانداز کیے جانے کے بعد ابھینندن نے اپنی مبالغہ آمیز اور جھوٹی شہرت کو بیچ کر پیسہ کمانے کے لیے بھارتی فضائیہ چھوڑ دی۔  بھارتی ہوا بازی کا شعبہ زوال کا شکار ہے، اور ابھینندن کا کسی نجی ایئر لائن میں شامل ہونا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک من گھڑت “ہیرو” جسے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران بار بار تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں اسے SU-30 لڑاکا طیارہ دیا گیا تھا، لیکن اس کے IQ کی وجہ سے اسے تنزلی دے کر “اڑتا ہوا تابوت” یعنی MiG-21 سونپ دیا گیا۔ 2019 میں شاہینوں کے خلاف اس کی انتہائی قابلِ رحم اور لاپرواہ کارروائی کے بعد، جس میں اس نے اپنا طیارہ گنوا دیا اور آخرکار پاکستانی چائے سے لطف اندوز ہونے لگا، اسے عزت بچانے کے لیے ترقی اور ایوارڈ دیا گیا۔
پاکستان نے اسے تین روز بعد انسانی بنیادوں پر رہاکیا تھا۔ اب گروپ کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد، اس نے گوا میں قائم علاقائی ایئر لائن FLY91 میں شمولیت اختیار کر لی،  جس کے پاس صرف چار فعال ATR 42 ٹربوپراپ طیارے ہیں۔ انڈین ایئر لائنز پہلے ہی سنگین مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں؛ ایسے شخص کو کسی نجی ایئر لائن میں شامل ہونے دینا تباہ کن ہے۔ ابھینندن کو دیا گیا ویر چکر بھی بھارت کی جھوٹی کہانی کا حصہ ہے۔ ابھی نندن کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ بھارتی فضائیہ کے اندر بڑھتی بے چینی پر سوال اٹھاتی ہے۔ یہ صرف ایک پائلٹ کا اخراج نہیں، بھارتی فضائیہ کے انسانی وسائل کے بحران کی علامت ہے۔
بھارتی سرکاری RTI اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے قبل ایک دہائی میں 798 IAF پائلٹس نے استعفیٰ دیا۔ ان میں سے 289 پائلٹس کو نجی ایئرلائنز میں جانے کے لیے No-Objection Certificates جاری کیے گئے۔  یعنی سینکڑوں تربیت یافتہ فوجی پائلٹس نے بھارتی فضائیہ چھوڑ کر کمرشل ایوی ایشن کا رخ کیا۔ بعض برسوں میں بھارتی فضائیہ سے پائلٹس کے اخراج کی تعداد 100 سے 114 تک پہنچ گئی۔ کم فوجی معاوضہ بھارتی پائلٹس کی بے اطمینانی کی بڑی وجوہات میں شامل رہا ہے۔ سینئر رینکس پر پرواز کے محدود مواقع بھی پائلٹس کو سروس سے دور کرتے رہے ہیں۔
بھاری انتظامی ذمہ داریاں اور سروس شرائط سے عدم اطمینان بھی اہم عوامل ہیں۔ سینئر افسران کے ساتھ پیشہ ورانہ اختلافات نے بھی استعفوں کے رجحان کو تقویت دی۔

Watch Live Public News