بھارتی اثرورسوخ بھی کام نہ آیا، شیخ حسینہ کی بیٹی WHO سے مالی کرپشن کے الزام پر مستعفی

 بھارتی اثرورسوخ بھی کام نہ آیا، شیخ حسینہ کی بیٹی WHO سے مالی کرپشن کے الزام پر مستعفی
کیپشن: بھارتی اثرورسوخ بھی کام نہ آیا، شیخ حسینہ کی بیٹی WHO سے مالی کرپشن کے الزام پر مستعفی

ویب ڈیسک: بھارتی اثرورسوخ بھی کام نہ آیا، شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد WHO سے مالی کرپشن کے الزام پر مستعفی ہو گئیں۔

رائٹرز کے مطابق شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد WHO کے علاقائی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی کمیٹی صائمہ واجد کے خلاف  فراڈ اور جعل سازی کی تحقیقات کر رہی تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے صائمہ واجد کے استعفے سے ایک روز قبل انہیں عہدے سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔ ڈبلیو ایچ او نے صائمہ واجد پر چین کے سفر سے متعلق مالی فراڈ اور تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط بیانی کے الزامات بھی لگائے۔

رائٹرز کے مطابق صائمہ واجد نے چین کے دورے کے بعد غلط اخراجات کا بل جمع کروایا۔ صائمہ واجد کی ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی مشکوک نکلیں۔ ڈبلیو ایچ او نے ان پر بنگلہ دیش میں ایک پلاٹ غیرقانونی طور پر حاصل کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے مارچ 2025 میں صائمہ واجد کے خلاف مبینہ فراڈ اور جعل سازی کے الزامات عائد کیےتھے۔

صائمہ واجد 2024 میں پانچ سالہ مدت کیلئے WHO کی جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی ڈائریکٹر مقرر ہوئی تھیں۔ صائمہ واجد کے مقابلے میں نیپال کے تجربہ کار ڈاکٹر شمبھو پرساد آچاریہ امیدوار تھے، مگر حسینہ کی بیٹی کو منتخب کیا گیا۔ 

 سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ صائمہ واجد بھارتی اثر و رسوخ اور حسنیہ واجد سے قربت کے باعث منتخب ہوئی۔ عالمی ادارۂ صحت کے اہم عہدے پر سیاسی خاندان سے وابستہ امیدوار کے  انتخاب نے میرٹ اور انتخابی عمل کو متنازع بنا دیا تھا۔ حسینہ حکومت بھارت کی قریبی اتحادی تھی- صائمہ واجد کا معاملہ نئی دہلی کیلئے بھی سبکی کا باعث بن گیا ہے۔ فراڈ، جعل سازی اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد صائمہ کا استعفیٰ اس انتخابی فیصلے کو مزید متنازع بناتا ہے۔ صائمہ واجد کا معاملہ سوال اٹھاتا ہے کہ علاقائی اداروں میں انتخاب واقعی پیشہ ورانہ اہلیت پر ہوتا ہے یا سیاسی تعلقات بھی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔

Watch Live Public News