ویب ڈیسک: 9/11 حملوں کو 25 سال مکمل ہونے پر اٹلانٹک کونسل نے عالمی دہشتگردی کی بدلتی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ 2001 کے مقابلے میں دہشتگردی کا ڈھانچہ زیادہ منتشر، غیر مرکزی اور پیچیدہ ہوچکا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے مطابق دہشتگردی اب صرف بڑی اور مرکزی تنظیموں تک محدود نہیں رہی بلکہ مقامی تنازعات، شدت پسند نیٹ ورکس، جرائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خطرے کی نوعیت تبدیل کردی ہے۔ القاعدہ اور داعش نے بھی اپنی روایتی مرکزی ساخت کے بجائے ذیلی گروہوں اور نیٹ ورکس کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور کرپٹو کرنسی کو دہشتگرد گروہوں کے لیے ابھرتے ہوئے اہم ذرائع قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نے پروپیگنڈا، بھرتی اور بعض تکنیکی سرگرمیوں کو زیادہ آسان، تیز اور کم لاگت بنا دیا ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی مالی لین دین کے لیے متبادل راستے فراہم کررہی ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے مطابق داعش خراسان نے مالی لین دین کی شناخت چھپانے کے لیے پرائیویسی فوکسڈ کرپٹو کرنسی مونِیرو کے استعمال کی طرف بھی پیش رفت کی ہے۔
افغانستان بدستور دہشتگردی کا اہم مرکز
رپورٹ میں افغانستان کو دہشتگردی کے حوالے سے بدستور اہم تشویش کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے مطابق افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان افغانستان کو بھرتی اور تربیت کے لیے استعمال کررہی ہے اور وسطی ایشیائی نوجوانوں کی بھرتی کے ساتھ بیرونِ ملک حملوں کی صلاحیت برقرار رکھتی ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود اڈوں سے پاکستان میں حملے کررہی ہے، جبکہ افغان سرزمین پر موجود مختلف شدت پسند گروہوں کے باعث خطے کو مستقل دہشتگردی کے خطرے کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں رہنے کے باعث افغانستان میں بعض دہشتگرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کے مواقع مل رہے ہیں، جبکہ القاعدہ سمیت دیگر تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافے کا خطرہ بھی بدستور موجود ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے جائزے کے مطابق 9/11 کے بعد دہشتگردی کے خلاف عالمی کارروائیوں کے باوجود خطرہ ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل تبدیل ہوگئی ہے۔ آج دہشتگرد گروہوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور غیر مرکزی نیٹ ورکس نئے مواقع پیدا کررہے ہیں۔