ویب ڈیسک: آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے دورے کے لیے ممکنہ خطرہ بننے پر بی جے پی مخالف منتخب وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو دورۂ امریکاسے روک دیا گیا۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور تیلگانہ کے وزیر اعلی ریونت ریڈی ایک ہی وقت میں امریکہ کا دورہ کر رہے تھے۔ آر ایس ایس سربراہ بھاگوت کے دورے کو امریکہ میں شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اقلیت مخالف رویے پر بھاگوت کاُدورہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کا تارکین وطن سے خطاب، بھاگوت کے لئے مزید مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ نئی دہلی نے تلنگانہ کے منتخب وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا ترقیاتی مقاصد کے لیے مجوزہ امریکی دورہ روک دیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے ریڈی کے امریکی دورے کے پروگرام کو ناموزوں قرار دے کر منظوری روک دی۔ ریڈی معروف امریکی یونیورسٹیز میں تعلیم، ہنرمندی، سرمایہ کاری اورریاستی تعاون کے لیے دورہ کرنے والے تھے۔ ہارورڈ، ایم آئی ٹی، نارتھ ایسٹرن اور ورجینیا ٹیک ریڈی کے مجوزہ دورے میں شامل اہم ادارے تھے۔ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی سے مجوزہ ملاقات بھی مرکزی حکومت کے اعتراض کی ممکنہ وجہ بنی ۔ بی جے پی حکومت نے ممدانی سے ملاقات کی خواہش پر تیلگانہ کے وزیر اعلیٰ کا دورہ منسوخ کروا دیا۔
تلنگانہ حکومت نے برطانیہ اور امریکا کے تقریباً دس روزہ ’’ تلنگانہ رائزنگ‘‘ دورے کے لیے بروقت اجازت طلب کی تھی۔ برطانیہ پہنچنے کے بعد مرکزی حکومت نے ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے کی منظوری روک دی۔
دوسری جانب موہن بھاگوت 25 اگست سے امریکا، کینیڈا اور برطانیہ میں آر ایس ایس کے صدسالہ جشن کی مہم چلائیں گے۔ ریڈی کی یونیورسٹیز، سرمایہ کاروں اور منتخب امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں روکنے سے سیاسی ترجیحات پر بحث شروع ہوگئی۔ سیاسی رہنما کو قانونی دورے سے روکنا اپوزیشن ریاستوں کے ساتھ بی جے پی حکومت کے امتیازی رویے کی عکاسی ہے۔ تلنگانہ کی عالمی تعلیمی و معاشی رسائی محدود جبکہ شدت پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کی بیرونِ ملک رابطہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ جنوبی ریاستوں سے بی جے کا دوہرا معیار ان میں احساس محرومی بڑھا رہا ہے۔