امریکی خفیہ جاسوس سیٹلائٹ خلا میں پراسرار طور پر ٹوٹ گیا،کیا خلا میں خفیہ جنگ شروع ہو چکی؟

امریکی خفیہ جاسوس سیٹلائٹ خلا میں پراسرار طور پر ٹوٹ گیا،کیا خلا میں خفیہ جنگ شروع ہو چکی؟

(ویب ڈیسک) سرد جنگ کے آخری برسوں میں خلا میں بھیجا گیا امریکا کا ایک انتہائی خفیہ جاسوس سیٹلائٹ زمین سے سیکڑوں کلومیٹر بلندی پر زیریں زمینی مدار میں پراسرار طور پر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر خلائی ہتھیاروں اور کشیدگی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

امریکی اسپیس فورس کے مطابق 'USA-32' نامی خفیہ سیٹلائٹ 13 ستمبر کو رات تقریباً 9 بج کر 13 منٹ (UTC) پر 775 کلومیٹر کی بلندی پر اچانک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔

یہ سیٹلائٹ 1988 میں سرد جنگ کے دوران خلا میں بھیجا گیا تھا، جسے سابق سوویت یونین کے ریڈارز اور دیگر حساس الیکٹرانک سگنلز کی جاسوسی و نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تھا۔

امریکی فوج ٹوٹنے والے سیٹلائٹ کے ملبے کو مسلسل ٹریک کر رہی ہے اور حکام کے مطابق فی الوقت کسی دوسرے فعال خلائی جہاز یا سیٹلائٹ کو فوری خطرہ لاحق نہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ تقریباً 40 سال پرانے اس سیٹلائٹ کی بیٹری پھٹنے یا پریشرائزڈ نظام میں خرابی حادثے کی وجہ ہو سکتی ہے، جبکہ کسی خلائی ملبے یا مائیکرو میٹیورائڈ سے ٹکراؤ کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

فی الحال ایسے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے کہ سیٹلائٹ کو کسی اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہو۔

سیٹلائٹ ٹوٹنے کے محض ایک روز بعد امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے اعتراف کیا کہ امریکا کے پاس مدار میں ایسے اسپیس کنٹرول ہتھیار موجود ہیں جو دشمن کے خلاف امریکی افواج کے دفاع کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اگلے ہی روز امریکی اسپیس فورس کے سربراہ ڈگلس شیز نے بھی اسی نوعیت کی صلاحیتوں کی باضابطہ تصدیق کی، تاہم ان بیانات اور سیٹلائٹ کی تباہی کے مابین براہِ راست تعلق کا کوئی ثبوت تاحال نہیں ملا۔

واضح رہے کہ امریکا، چین اور روس ماضی میں اینٹی سیٹلائٹ (ASAT) صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں، جبکہ جدید دور میں ایسے جدید الیکٹرانک نظام بھی سرگرم ہیں جو سیٹلائٹس کو جسمانی نقصان پہنچائے بغیر ان کے مواصلاتی نظام کو مکمل جام کر سکتے ہیں۔

Watch Live Public News