(ویب ڈیسک) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنما عبدالکبیر نے برہان وانی کو شہید قرار دے دیا۔
کشتواڑ میں خطاب کرتے ہوئے عبدالکبیر نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی مزاحمتی تحریک سے متعلق بھارتی مؤقف کو چیلنج کیا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ان کے اہلِ خانہ کو مالی معاوضے کی پیشکش کر نے برہان وانی کے گھر گئے تھے۔
عبدالکبیر نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں برہان وانی کو شہید کہنے کا حق حاصل ہے۔
برہان وانی 21 سالہ کشمیری نوجوان 8 جولائی 2016 کوظالم بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔ان کی شہادت کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔
ہزاروں کشمیریوں نے پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر برہان وانی کے حق میں اور آزادی کے نعرے لگائے۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جھڑپوں کے دوران 12 افراد جاں بحق اور تقریباً 200 زخمی ہوئے۔
بھارتی فورسز کی جانب سے گولیاں اور پیلٹ گنز استعمال کیے جانے سے عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق بھارت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کشمیری عوام کی قسمت کا فیصلہ کرے۔ برہان وانی کبھی دہشت گرد نہیں تھے۔ کئی دہائیوں سے بھارت نے کشمیریوں کی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے، ان کی آواز کو دبایا ہے اور ہر مزاحمت کرنے والے کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر ان کے ہیروز کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ برہان وانی مقبوضہ جموں کشمیر کے ایک فرزند تھے جنہوں نے بھارت کے مظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور مزاحمت کی ایک جیتی جاگتی علامت بن گئے۔