ویب ڈیسک: کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کی 'مکمل ریاست کی بحالی' کی قرارداد پیش کی گئی جس پر بی جے پی ارکان نے اسمبلی میں ہنگامہ برپا کر دیا۔
ے ایم ایس کے مطابق قرار داد میں نئی دہلی سے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد میں نیشنل کانفرنس نے مؤقف اپنایا کہ صرف صوبائی درجہ نہیں، کشمیر کو اس کے تاریخی آئینی حقوق بھی دیے جائیں۔ "دہلی سرکار ریاست کا درجہ بھی بحال کرے"۔
کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ نظامِ حکومت میں مقامی انتظامیہ کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)نے قرارداد کی مکمل حمایت کی۔ کانگریس کی جانب سے بھی ریاست کی بحالی کی حمایت کی گئی۔ اسمبلی کا ایوان 'کشمیر ہمارا ہے' اور 'سارا کشمیر ہمارا ہے' کے نعروں سے گونج اٹھا۔ حکمراں نیشنل کانفرنس بی جے پی مخالفت کے باوجود قرارداد کو کثرتِ رائے سے پاس کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے اسمبلی میں شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں ۔ مودی نواز ارکان کا اسپیکر کے ڈائس کے سامنے دھرنا دینے پر اسپیکر نے مارشل کے ذریعے انہیں اسمبلی سے باہر نکال دیا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت جبر اور دھونس کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کا خیال نہیں نکال سکی۔ تمام کشمیری اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود بھارت سے نجات پر متحد ہیں۔