(ویب ڈیسک): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن، علاقائی سلامتی، مسئلہ کشمیر، فلسطین، آبی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل مؤقف کا دوٹوک اور جرات مندانہ اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ“، امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے اقوام متحدہ سے متعلق قول کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، عالمی امن اور مشترکہ خوشحالی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس عزم کا واضح ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر خلیل الرحمان کو مبارکباد پیش کی اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی متحرک قیادت اور اینا لینا بائر بوک کی خدمات کو سراہا۔
مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی امن سفارت کاری:
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے لپیٹ میں لیا، جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے۔
اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیشرفت حاصل کی۔
وزیراعظم نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر غیر معمولی خدمات سرانجام دینے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی معیشت کی شریانوں—آبنائے ہرمز اور باب المندب—کو ہر صورت کھلا رہنا چاہیے اور میزائلوں و ڈرونز کے شور میں سفارت کاری کی آواز بلند تر ہونی چاہیے۔
حرمین شریفین کا تقدس اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ:
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں اور بالخصوص مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی مذموم کوشش کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ پھیلا۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ”حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔“ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا تاریخی ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ علاقائی استحکام کا ضامن ہے اور یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے اجتماعی امن و دفاع کا عزم ہے۔
بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب اور امریکی صدر کا شکریہ:
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال پاکستان کو بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، جس پر فیلڈ مارشل کی قیادت میں بہادر افواج نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھول سکے گا۔
وزیراعظم نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت، پرعزم اور بصیرت افروز مداخلت کا باقاعدہ اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
مسئلہ کشمیر اور بھارت کی آبی جارحیت پر انتباہ:
وزیراعظم نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی؛ کشمیری عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، لہٰذا عالمی ادارہ استصوابِ رائے سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور ثالثی عدالت دونوں نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے دوٹوک انتباہ دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا اور ”پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو باقاعدہ اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔“
فلسطین کی آزادی اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت:
انہوں نے کہا کہ نسل در نسل آزادی کی جنگ لڑنے والے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں؛ غزہ کے بچے کو بھی دنیا کے دیگر بچوں کی طرح جینے کا پورا حق ہے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مغربی کنارے تک تشدد کا پھیلاؤ اسرائیل کے نسل کشی کے بھیانک ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے۔
پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جبکہ لبنان اور شام پر اسرائیلی جارحیت کی بھی سخت مذمت کی جاتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں اور افغان سرزمین کا غلط استعمال:
وزیراعظم نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ پاکستان نے فرنٹ لائن ریاست کے طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا، جس کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے۔
انہوں نے کھل کر نشاندہی کی کہ ’فتنہ الخوارج‘ (ٹی ٹی پی) اور ’فتنہ الہندوستان‘ (بی ایل اے) بدقسمتی سے افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے کھلم کھلا استعمال کر رہے ہیں، جسے روکنا ناگزیر ہے۔