سابق RSS کارکن کا RSS، VHP اور بجرنگ دل کو "دہشت گرد تنظیمیں" قرار دینے کا مطالبہ

سابق RSS کارکن کا RSS، VHP اور بجرنگ دل کو

(ویب ڈیسک)RSS کے سابق کل وقتی کارکن یشونت سہادیو شندے (Yashwant Sahdev Shinde) نے RSS، VHP اور بجرنگ دل کو باضابطہ طور پر "دہشت گرد تنظیمیں" قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔شندے نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے کو خط لکھ کر اپنے سابقہ الزامات کا اعادہ کیا کہ RSS نے 2000 کی دہائی میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی اور مہلک ہتھیاروں کی تربیت دی۔

شندے 1990 سے RSS کے کل وقتی کارکن تھے اور ان کے مطابق انہوں نے تنظیم اس وقت چھوڑ دی جب مبینہ طور پر انہیں " بم بنانے اور تربیتی ٹیم میں شامل ہونے " کے لیے کہا گیا۔

اپنے تازہ خط میں شندے نے مطالبہ کیا کہ RSS سربراہ  موہن بھاگوت، RSS رہنما   اندریش کمار  اور VHP کے جنرل سیکریٹری  ملند پراندے  سمیت اہم شخصیات کو 2000 کی دہائی میں بھارت کے مختلف حصوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں ان کے مبینہ کردار پر " گرفتار کرکے تحقیقات کی جائیں "۔

شندے نے  اجمیر شریف درگاہ بم دھماکے  کے سلسلے میں  اندریش کمار  پر الزامات عائد کیے اور  کرنل پرساد پروہت  اور BJP کی سابق رکن پارلیمنٹ  پرگیہ سنگھ ٹھاکر  کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے  2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس  میں مقدمے کا سامنا کیا اور بعد ازاں بری ہوگئے۔

شندے نے BJP اور RSS قیادت کے خلاف  1998 کے پوکھران جوہری تجربات، کارگل جنگ، 2002 کے گجرات فسادات، 2019 کے پلوامہ حملے اور آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر کرنے  سے متعلق بھی متعدد سنگین الزامات عائد کیے۔

 اگست 2022  میں شندے نے مہاراشٹر کی ایک خصوصی  CBI عدالت  میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایسی میٹنگز میں شرکت کی جہاں RSS اور VHP کے ارکان نے بھارت بھر میں  سلسلہ وار بم دھماکوں کی منصوبہ بندی  کی۔

شندے کے مطابق  ملند پراندے کی نگرانی میں 2003 میں انہیں تقریباً 20 دیگر افراد کے ساتھ بم سازی کی تربیت دی گئی ۔

اپنے متعدد انٹرویوز میں شندے نے دعویٰ کیا کہ انہیں  پاکستان میں خفیہ کارروائیوں اور بھارت کے اندر ایسے بم دھماکوں کی تربیت دی گئی جن کا الزام "مسلمانوں پر ڈالا جا سکے" ۔

شندے نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ تربیت حاصل کرنے والے افراد نے  2003-04 میں جالنہ، پورنا اور پربھنی کی مساجد میں بم دھماکے کیے ۔

 ایک سابق اندرونی کارکن کی جانب سے RSS، VHP اور بجرنگ دل کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مطالبہ، سنگھ پریوار کے کردار پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ 

کانگریس رہنما  مانیکم ٹیگور نے RSS کا القاعدہ سے موازنہ کیا، جبکہ BJP کے سابق رہنما   اُدت راج نے کہا کہ RSS ایک دہشت گرد تنظیم کی طرح کام کرتی ہے ۔

 یہ الزامات صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں، بلکہ مختلف واقعات شندے کے ان دعوؤں کے عملی پس منظر  ہے۔ 

 کرسمس 2025  کے دوران متعدد بھارتی ریاستوں میں  بجرنگ دل اور VHP کارکنوں نے مسیحی برادریوں کو نشانہ بنایا گیا  ۔

  نلباری، آسام  میں بجرنگ دل اور VHP کے کارکنوں نے  ایک اسکول کی کرسمس سجاوٹ اور متعلقہ مواد کو آگ لگا دی ۔پالکّڑ، کیرالہ میں RSS کارکنوں نے   بچوں کی کرسمس کیرول تقریب پر حملہ کیا۔  مرشد آباد  میں BJP اور RSSنے   فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات بھڑکا ئے ۔

CPI(M) نے RSS-BJP نیٹ ورک کو "سنگھ پریوار" قرار دیتے ہوئے اس سے منسلک فرقہ وارانہ حملوں کی شدید مذمت کی ۔

بین الاقوامی سطح پر بھی  بھارت پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور سرحد پار خفیہ کارروائیوں کے ثبوت  فراہم کیے جا  رہے ہیں۔

پاکستان کی  وزارت خارجہ نے عالمی برادری کے سامنے ایسے شواہد پیش کیے ہیں جو بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے ناقابلِ تردید ثبوت ہے ۔

پاکستان کے سفیر نے  RSS اور BJP کو فاشسٹ نظریے کے پیروکار  قرار دیتے ہوئے بھارت کو  "علاقائی دہشت گردی کا باپ"  قرار دیا۔

  شندے کے الزامات RSS سے منسلک ایک ایسے مبینہ خفیہ نیٹ ورک کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں منظم ہتھیاروں کی تربیت، بم سازی اور فرقہ وارانہ اہداف کو نشانہ بنانے جیسے سنگین دعوے شامل ہیں۔ 

 اس مبینہ نیٹ ورک کو صرف تشدد کے لیے نہیں بلکہ فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرکے سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 

  RSS کے مبینہ خفیہ ڈھانچے سے متعلق ان انکشافات نے 2000 کی دہائی سے منظم، خفیہ ہتھیاروں اور بم سازی کی تربیت کے دعوؤں کو ایک بار پھر قومی اور بین الاقوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ 

Watch Live Public News