ویب ڈیسک: سعودی دارالحکومت ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق اجلاس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی چیف آف جنرل اسٹاف اور ترکیے کے اعلیٰ عسکری حکام شریک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا جبکہ شرکاء نے مقدس شہر مکہ اور شہری و معاشی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
️ 25 Eylül 2026
— TSK (@TSKGnkur) September 25, 2026
Genelkurmay Başkanı Orgeneral Selçuk Bayraktaroğlu, Türkiye, Pakistan ve Suudi Arabistan arasında imzalanan Mekke Ortak Savunma Anlaşması kapsamında, Riyad/Suudi Arabistan’da düzenlenen toplantıya, Pakistan Savunma Kuvvetleri ve Kara Kuvvetleri Komutanı Mareşal… pic.twitter.com/HjmfRxGMMD
اجلاس میں سعودی مسلح افواج کی عوام کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پیشہ ورانہ کارکردگی اور مستعدی کو سراہا گیا۔
انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطہ کاری، دفاعی صلاحیتوں کا انضمام مزید مؤثر بنانے پر اتفاق
اس کے علاوہ شرکاء نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، شرکاء نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو سراہا۔
ریاض اجلاس مکہ معاہدے کے تحت دفاعی شراکت داری کی مضبوطی کا عکاس
آئی ایس پی آر کے مطابق ریاض اجلاس مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت دفاعی شراکت داری کی مضبوطی کا عکاس ہے، اجلاس میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے وعدوں کو فوری طور پر مؤثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شرکاء نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیئے ہیں۔ حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں کے فائر کیے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا گیا۔
سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کیے تھے۔ ینبع بحیرہ احمر پر سعودی عرب کی اہم تیل بندرگاہ ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی نے فوجیوں پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے جان قربان کرنے تک تیار رہیں۔