نیتن یاہو کے خطاب کے دوران متعدد ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ

نیتن یاہو کے خطاب کے دوران متعدد ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ
کیپشن: نیتن یاہو کے خطاب کے دوران متعدد ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ

ویب ڈیسک:اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران متعدد ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیا،جس کے باعث جنرل اسمبلی کا ہال بڑی حد تک خالی نظر آیا۔

نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں ایران، ترکیہ، قطر اور نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی سمیت مختلف شخصیات اور ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران میں موجودہ حکومت کا خاتمہ زیادہ دور نہیں اور ایرانی عوام جلد حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

خطاب کے دوران نیتن یاہو نے اسٹارلنک ڈیوائس بھی دکھائی اور کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے۔انہوں نے ایرانی عوام تک آزادانہ معلومات کی رسائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

نیتن یاہو نے 2024 میں لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کے زیرِ استعمال پیجرز کو نشانہ بنانے کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پیجر بھی جنرل اسمبلی میں دکھایا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور قطر پر اسرائیل مخالف مؤقف کی حمایت کا الزام عائد کیا۔انہوں نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر یہود مخالف مؤقف رکھنے کا الزام عائد کیا۔

دوسری جانب ایرانی وفد نے نیتن یاہو کے خطاب کے دوران جنرل اسمبلی کا ہال چھوڑ دیا۔ ایرانی وفد کی نشست پر پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصویر بھی رکھی گئی، جسے احتجاج کے طور پر دیکھا گیا۔

اجلاس کے دوران اسرائیلی مندوب کے ایرانی وفد کے قریب جاکر اسٹارلنک ڈیوائس دکھانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور اسرائیلی مندوب کو نظرانداز کردیا۔

Watch Live Public News