(ویب ڈیسک) افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف سرگرم مختلف مسلح مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں میں ڈرامائی تیزی آ گئی ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شمالی اور جنوبی علاقوں سمیت 7 اہم صوبوں میں ہونے والے پے در پے گوریلا حملوں اور جھڑپوں میں کم از کم 30 طالبان اہلکار و اہم کمانڈرز ہلاک اور 13 شدید زخمی ہو گئے، جبکہ پنجشیر میں رجیم کا ایک عسکری ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا گیا۔
7اکتوبر کو وادی پنجشیر میں ’افغان گرین ٹرینڈ‘ نے بڑی عسکری کارروائی کرتے ہوئے طالبان رجیم کے زیرِ استعمال بھارتی ساختہ ’چیتا ہیلی کاپٹر‘ کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
گرین ٹرینڈ کے مطابق، ہیلی کاپٹر میں سوار طالبان فضائیہ کے چیف آف اسٹاف ملا قبلہ اللہ مقیم اور ان کے دو پائلٹ عبدالاعظیم اور محمد نعیم حملے میں شدید زخمی ہوئے۔
6 اکتوبر کو ’افغان فریڈم فرنٹ‘ (AFF) نے بدخشاں میں طالبان کمانڈر کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر 4 محافظوں سمیت مارا گیا اور گاڑی تباہ ہو گئی۔
7 اکتوبر کو فیض آباد میں فریڈم فرنٹ کے ایک اور آپریشن میں طالبان کمانڈر سمیت مزید 4 اہلکار ہلاک ہوئے، جس کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار طالبان رجیم نے مقامی آبادی پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے شہریوں کی غیر قانونی گرفتاریاں اور تشدد شروع کر دیا۔
ادھر ’نیشنل ریزسٹنس فرنٹ‘ (NRF) نے فیض آباد میں کارروائی کرتے ہوئے طالبان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ صفی اللہ متوکل کو اس کے 2 محافظوں سمیت ہلاک کر دیا۔
7 اکتوبر کو نورستان کے ضلع کمدیش میں طالبان رجیم کی جانب سے افغان فریڈم فرنٹ کے ٹھکانوں پر چڑھائی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی شدید جھڑپ میں 11 طالبان اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، جس کے بعد طالبان دستے پسپا ہو گئے۔
اسی روز کاپیسا کے علاقے کوہستان میں فریڈم فرنٹ نے راکٹوں اور ہیوی مشین گنوں سے حملہ کر کے 3 طالبان اہلکاروں کو ہلاک اور 2 کو زخمی کیا۔
’ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ‘ (AUF) نے 6 اکتوبر کو قندھار میں طالبان کے خطرناک طیب نیٹ ورک کے کمانڈر عزت اللہ کو ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ 3 سے 6 اکتوبر کے دوران ارغنداب، قندھار اور لشکر گاہ (ہلمند) میں 4 حملوں کے دوران مزید 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔
5 اکتوبر کو ’نیشنل موبلائزیشن فرنٹ‘ (NMF) نے جلال آباد میں ننگرہار سینٹرل جیل کی انٹیلی جنس کمانڈ پر حملہ کر کے ڈپٹی ڈائریکٹر تحقیقات وحید وصال کو جہنم واصل کر دیا۔
’افغان ریپبلک فرنٹ‘ نے بامیان میں 4 اور 5 اکتوبر کو طالبان کے معدنیات بردار قافلوں پر دو حملے کیے اور واضح اعلان کیا کہ کان کنی میں طالبان رجیم کے ملکی و غیر ملکی شراکت دار بھی ان کا جائز عسکری ہدف ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اندراب، بدخشاں اور نورستان میں اندراب ریزسٹنس فرنٹ کی کارروائیاں بھی زور پکڑ چکی ہیں۔
طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں، وسائل کی لوٹ مار، جبر، اور مسلسل پابندیوں سے تنگ افغان عوام میں مسلح مزاحمت بڑھنے لگی۔