محسن نقوی نے اپوزیشن ، حکومت کے درمیان مجوزہ معاہدے کے نکات  پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیے

محسن نقوی نے اپوزیشن ، حکومت کے درمیان مجوزہ معاہدے کے نکات  پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیے

(ویب ڈیسک) وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مجوزہ معائدے کے نکات مجلس شوریٰ کے سامنے رکھ دیا ۔

معائدے میں اپوزیشن اور وزیراعظم کی ملاقات پر اتفاق ہوا تاکہ سیاسی مذاکرات کا آغاز ہو۔معاہدے میں وسیع مذاکرات کے لیے سیاسی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کے تمام قانونی حقوق فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائیں گئی۔معمر اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس  میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے   کہا کہ اپوزیشن کے الزامات کی وضاحت کروں گا۔ اپوزیشن کے اراکین نے کہا کہ دہشت گردی کا بہانہ بنایا گیا ہے۔4 واقعات میں پوری کوشش کی کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فروری میں پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔فروری کے اپیکس کمیٹی اجلاس کو بلانے کے لئے وفاقی حکومت کو بہت کوششیں کرنا پڑیں۔فروری کے اپیکس کمیٹی اجلاس کی پریس ریلیز پر خیبرپختونخوا حکومت نے اعتراض اٹھایا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے فروری میں آخری مرتبہ کسی شہید اہلکار کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اپنی پارٹی قیادت سے متضاد رویہ اختیار کر رہی تھی۔خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے واقعات کی مذمت نہیں کر رہی تھی۔خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا ہمارا دل نہیں تھا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے کئی مرتبہ ذاتی طور پر ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ پانچ اضلاع میں پولیس کو مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔فیصلہ ہوا تھا کہ سول آرمڈ فورسز کو پیچھے لا کر ان اضلاع میں پولیس کو فرنٹ لائن پر لایا جائے گا۔ہم کہ رہے تھے دہشت گردی کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت قائدانہ کردار ادا کرے۔ستمبر میں بھی مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار خیبرپختونخوا میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگ تھے۔مذاکرات میں ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے گئے۔خیبرپختونخوا کے پیسوں کے لیے وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے بات کی۔خیبرپختونخوا حکومت کا ایک ایک مسلئہ ہم حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری آخری گھنٹے تک کوشش تھی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج نہ لگایا جائے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کہتے تھے فوجی کے ساتھ کھڑا ہونا سیاسی طور پر نقصان دے گا۔ہمارا پاس کوئی آپشن نہیں رہا تو ہم نے یہ فیصلہ کیا۔دہشت گردی کا سامنے کھڑے ہو کر مقابلہ کرنا ہو گا۔صوبائی قیادت کے ساتھ بیٹھیں اور مسائل کو حل کریں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایک سال بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بات کی جاتی رہی۔علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر کی ڈاکٹرز سے بریفنگ کروائی گئی۔جب بانی پی ٹی آئی کی صحت خراب ہوتی تھی ان کو اسی دن ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔جب ہر چیز طے ہوئی تو آخر میں ایک اور نئی شرط عائد کی گئی۔ان کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔معائدے میں سب سے پہلے سیاسی مذاکرات کے آغاز کی بات کی گئی۔

وزیر داخلہ نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مجوزہ معاہدے کے نکات پارلیمنٹ کےسامنے رکھ دیے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں اپوزیشن اور وزیراعظم کی ملاقات پر اتفاق ہوا تاکہ سیاسی مذاکرات کا آغاز ہو۔معاہدے میں وسیع مذاکرات کے لیے سیاسی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کے تمام قانونی حقوق فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائیں گئی۔معمر اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔

Watch Live Public News