ویب ڈیسک: بھارت میں نوراتری کے دوران نان ویجیٹیرین کھانا پیش کرنے پر احتجاج کے بعد بین الاقوامی فوڈ چین ڈومینوز کی ایک شاخ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مظاہرین نے فوڈ حکام پر شاخ سیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس واقعے نے بھارت میں شہریوں کی اپنی پسند کا کھانا کھانے کی آزادی، کاروباری خودمختاری اور مذہبی رواداری سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی جذبات کے نام پر کسی کاروبار یا صارفین پر مخصوص غذائی انتخاب مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
بھارت میں کھانے پینے کی اشیا کو مذہبی تنازعات سے جوڑنے کے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے گوشت کھانے کے حق پر اعتراضات اور فوڈ آؤٹ لیٹس کے خلاف احتجاج شامل ہیں۔
ماضی کے چند واقعات
مارچ 2017، گڑگاؤں: میڈیا رپورٹس کے مطابق، نوراتری کے دوران گوشت کی دکانیں بند کرانے اور کے ایف سی کے ایک آؤٹ لیٹ کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے۔
فروری 2022، گجرات: کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے تنازعے کے پس منظر میں کے ایف سی، پیزا ہٹ، ڈومینوز اور بعض کمپنیوں کے شورومز کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
جولائی 2025، غازی آباد: ساون اور کانوڑ یاترا کے دوران سبزی خور کھانے پیش کرنے کے مطالبے اور وسندھرا کے علاقے میں کے ایف سی آؤٹ لیٹ کے خلاف ہندو رکشا دل کے کارکنوں کی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ستمبر 2026 میں برکس سربراہی اجلاس کی سرکاری ضیافت میں غیر ملکی سربراہان کے لیے صرف سبزی خور کھانے پیش کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تاہم، کسی تقریب میں سبزی خور مینیو پیش کرنا اور احتجاج یا دباؤ کے ذریعے دوسروں کے غذائی انتخاب محدود کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
مبصرین کے مطابق، مذہبی آزادی کے ساتھ شہریوں کی ذاتی پسند، کاروباری آزادی اور معاشرتی تنوع کا احترام بھی ضروری ہے۔ ان کے نزدیک جب کھانے کا انتخاب مذہبی تنازع بن جائے تو بحث محض خوراک تک محدود نہیں رہتی، بلکہ بنیادی شہری حقوق اور مذہبی رواداری تک پھیل جاتی ہے۔