(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں جوشی مٹھ کے قریب بدری ناتھ سے واپسی پر ٹرانس بھارت ایوی ایشن کا نجی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر میں پائلٹ سمیت چھ افراد سوار تھے۔
تشویش ناک اعداد و شمار:
بھارتی پارلیمانی معلومات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک میں 12 ہیلی کاپٹر حادثات میں 30 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے سات حادثات اتراکھنڈ میں پیش آئے اور 21 انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
مسلسل حادثات نے چاردھام یاترا کے دوران فضائی آپریشنز، موسمی نگرانی، پائلٹ ٹریننگ اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
2025 میں بھی مئی اور جون کے دوران اتراکھنڈ میں متعدد ہیلی کاپٹر حادثات پیش آئے، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
اکتوبر 2022 میں کیدارناتھ کے قریب ہیلی کاپٹر حادثے میں بھی سات افراد ہلاک ہوئے تھے، لیکن مسلسل حادثات کے باوجود حفاظتی اقدامات کی مؤثریت پر سوالات برقرار ہیں۔
بھارت میں مودی دور حکومت میں بنیادی فضائی تحفظ کے مقابلے میں یاتریوں کی تعداد بڑھانے اور سیاحتی تشہیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ نتیجتاً چاردھام کا سفر اعداد و شمار، انسانی ناموں اور ان ہلاکتوں کی ایک المناک داستان بنتا جا رہا ہے جنہیں مؤثر حفاظتی اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔
چاردھام یاترا یا موت کا سفر؟ اتراکھنڈ میں فضائی حادثات نے مودی حکومت کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔