اروناچل پردیش: سیانگ ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے خلاف بھارت میں احتجاج

اروناچل پردیش: سیانگ ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے خلاف بھارت میں احتجاج
کیپشن: اروناچل پردیش: سیانگ ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبے کے خلاف بھارت میں احتجاج

ویب ڈیسک: سیانگ میگا ڈیم کے لیے بھارت کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کے ساتھ پیش قدمی اس بات کی واضح مثال ہے کہ نئی دہلی کس طرح ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر مقامی آبادی کے حقوق کو پامال کر رہی ہے۔
2025 میں حکومتِ بھارت نے اس منصوبے کے ابتدائی امکانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے شروع کیے۔ حکومت کے دعوے کے مطابق، یہ ملک کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہوگا، جس کی پیداواری صلاحیت 11,000 میگاواٹ ہوگی۔ یہ دیوہیکل منصوبہ اروناچل پردیش کے ضلع سیانگ میں تعمیر کیا جانا ہے۔
پہلے ہی دن سے ان لوگوں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا جن کی زمینیں، دریا اور ذریعۂ معاش اس سے براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
4 اکتوبر کو سیانگ انڈیجینس فارمرز فورم اور آل آدی یوتھ ایسوسی ایشن نے ایک واضح اور پُرامن احتجاج منظم کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حقیقی زمین مالکان کی مرضی کے خلاف یا طاقت کے زور پر کوئی سروے نہ کیا جائے۔
جب مشتعل دیہاتیوں نے غصے میں پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی تو ریاستی مشینری نے سڑکوں پر مزید نفری اور طاقت تعینات کر دی۔
اس کے بعد اروناچل پردیش کی حکومت نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ آبادی کی ’’اکثریت‘‘ پہلے ہی مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر چکی ہے۔ تاہم، مقامی لوگ اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ان 27 دیہات تک آگاہی کی کوئی حقیقی مہم نہیں پہنچائی گئی جنہیں زیرِ آب آنے یا بے دخلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم ان کی آبائی زمینوں اور دریا پر مبنی اس معیشت کو تباہ کر دے گا جو ان کی زندگیوں کا سہارا ہے۔
نئی دہلی کا جواب مزید سکیورٹی اہلکاروں، مزید لاٹھیوں اور رضامندی کے بارے میں مزید بے بنیاد دعوؤں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
اس منصوبے کو دریائے یارلنگ سانگپو پر چین کے ڈیم کے مقابلے میں ایک تزویراتی اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ مؤقف شاید ساؤتھ بلاک کے بریفنگ رومز میں مؤثر معلوم ہو، لیکن اس سے اروناچل پردیش میں ابھرنے والی داخلی سلامتی کی بگڑتی صورتِ حال اور شمال مشرقی بھارت سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بڑھتے ہوئے احتجاج کو کسی طور جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بھارت ایک بار پھر رضامندی کے بجائے جبر، قبائلی حقِ خود ارادیت کے بجائے مرکزی حکومت کے یک طرفہ احکامات، اور بجلی کی پیداوار و جغرافیائی سیاسی مقاصد کے نام پر آبادیوں کو بے گھر کرنے والے ایک بڑے منصوبے کا انتخاب کر رہا ہے۔
یہ طرزِ عمل نیا نہیں: پہلے ایک بہت بڑے منصوبے کا اعلان کرو، مقامی مخالفت کو نظرانداز کرو، اختلافِ رائے رکھنے والوں کو ملک دشمن قرار دو، پھر طاقت کے ذریعے ان کی آواز دباؤ، اور اس کے باوجود اصرار کرو کہ عوام اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔
سیانگ میں ہونے والے احتجاج نے اس طرزِ عمل کی کھوکھلی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

Watch Live Public News