ویب ڈیسک: افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی حملوں میں تیزی، 22 سے 25 اکتوبر کے دوران 6 صوبوں میں 7 بڑے حملے ہوئے۔ مزاحمتی گروہوں کی مسلح کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 35 سے زائد اہلکار ہلاک و زخمی۔
پروان میں بگرام ایئربیس پر افغان فریڈم فرنٹ کے پے در پے راکٹ حملے ہوئے۔ 22 اکتوبر کو اے ایف ایف کے بگرام ایئربیس پر طالبان رجیم کی فوجی تنصیبات اور تربیتی مراکز پر راکٹ حملے ہوئے۔ حملوں میں طالبان رجیم کے 10 سے زائد اہلکار ہلاک و زخمی، فوجی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ۔
اے ایف ایف کے مطابق 24 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا نیمروز میں طالبان کی 215 عزم کور کے چیف آف اسٹاف ملا نصیب اللہ زبیر آخوندزادہ پر حملہ ہوا۔ حملے میں ملا نصیب اللہ کے 7 محافظ ہلاک، 10 سے زائد ساتھی شدید زخمی۔ 23 اکتوبر کو نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا ہرات شاہراہ پر طالبان ہائی وے پولیس کے اہلکاروں پر حملہ ہوا۔ حملے میں طالبان رجیم کے 2 اہلکار ہلاک، 2 رائفلیں اور وائرلیس سیٹ قبضے میں لے لیے گئے۔
قندھار سے بدخشاں تک افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے طالبان رجیم پر کاری وار
23 اکتوبر کو اے یو ایف نے قندھار کے ضلع دامان میں طالبان پولیس اہلکار پر حملہ کیا حملے میں طالبان رجیم پولیس کا 1 اہلکار ہلاک، موٹر سائیکل قبضے میں لے لی گئی۔ 25 اکتوبر کو اے یو ایف نے بدخشاں کے ضلع تگاب میں طالبان رجیم کی اسپیشل یونٹ کے اہلکار پر حملہ کیا، جس میں 1 اہلکار ہلاک، دوربین اور سائلنسر سمیت 2 رائفلیں قبضے میں لی گئی۔ 24 اکتوبر کو افغان گرین ٹرینڈ کا بدخشاں کےدارالحکومت فیض آباد میں طالبان انٹیلی جنس کی گاڑی پر حملہ ہوا جس میں طالبان انٹیلی جنس کے 2 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ 22 اکتوبر کو افغانستان ریپبلکن فرنٹ کا سرپل کے ضلع بلخاب میں طالبان رجیم اہلکاروں پر حملہ ہوا جس میں 2 اہلکار عین اللہ ولد عاشق اللہ اور قاری عبدالرحیم ہلاک ہوئے۔ ہلاک اہلکاروں میں عین اللہ سرپل اور قاری عبدالرحیم میدان وردک کا رہائشی تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کے جبر، سخت گیر پالیسیوں اور مسلسل پابندیوں سے تنگ افغان عوام میں بے چینی بڑھنے لگی ہے۔ افغانستان بھر میں مزاحمت کا پھیلاؤ طالبان رجیم کے خلاف عوامی غصے کا واضح ثبوت ہے۔