ویب ڈیسک: این آر ایف کے سربراہ سیاسی امور و ترجمان عبداللہ خنجانی نے پنجشیر کے خلاف طالبان رجیم کی نفرت انگیز پالیسی بے نقاب کر دی۔
عبداللہ خنجانی کے مطابق نفرت کی بنیاد پر طالبان رجیم نے پنجشیر کو 700 چیک پوسٹس کے شکنجے میں جکڑ لیا۔ مزاحمت کے خوف سے طالبان رجیم نے پنجشیر میں 30 ہزار اہلکار جھونک دیے، ہر چوکی پر 30 سے 40 جنگجو موجود ہیں۔ جنوبی افغانستان سے جنگجو لا کر پنجشیر پر مسلط کیے گئے۔ طالبان رجیم کی دشمنی کا محور پنجشیر، وادی میں نفری سرحدی چوکیوں سے بھی دوگنا۔
این آر ایف کے مطابق افغان تاریخ میں کسی خطے کو اس حد تک نفرت، عسکری محاصرے اور جبر کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ طالبان رجیم کی نفرت انگیز سوچ نے پنجشیری شناخت کو جرم بنا دیا، پنجشیریوں کا بے دریغ قتل جاری ہے۔ پنجشیر میں طالبان رجیم کی پالیسی افغان تاریخ میں نفرت اور دشمنی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
عبداللہ خنجانی کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی پنجشیر دشمنی کا ہر سطح پر جواب دیا جائے گا۔