ویب ڈیسک: امریکا کے ٹرومین سینٹر میں 16 اکتوبر 2026 کو ’’سلامتی سے خوشحالی تک: پاک امریکا تعلقات کا نیا دور‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں سابق سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم اور دفاعی امور کے ماہرین نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات، علاقائی استحکام، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔
سیمینار میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم، امریکی سابق سفارت کار رابن ریفیل، دفاعی امور کے ماہر کرنل ڈیوڈ اسمتھ، ڈاکٹر پیٹرک کرونن، ڈاکٹر مریم سعید اور ڈاکٹر آمنہ ضیا سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔
شرکاء نے زور دیا کہ پاک امریکا تعلقات کو روایتی سلامتی اور دفاعی معاملات سے آگے بڑھا کر اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔
رابن ریفیل نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور سفارتی اثر و رسوخ کے باعث امریکا کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے، امریکی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور سرمایہ کاروں کو پاکستانی کاروباری شراکت داروں سے منسلک کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں مؤثر سفارت کاری علاقائی کشیدگی کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
کرنل ڈیوڈ اسمتھ نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات کو صرف دفاع اور سلامتی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے ماضی کی غلط فہمیوں کے خاتمے، عوامی رابطوں کے فروغ اور ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور معاشرتی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر پیٹرک کرونن نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر عملی تعاون کے متعدد مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اہم معدنیات میں شراکت داری، دہشت گردی کے مشترکہ خطرات سے نمٹنے اور جنوبی ایشیا و بحرِ ہند کی اہمیت کے پیشِ نظر امریکی پالیسی میں اس خطے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت اجاگر کی۔
سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات کو بھارت یا افغانستان کے تناظر تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 83 بڑی امریکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ اہم معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، تجارت اور کاروبار میں تعاون کے مزید امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کاروباری سرگرمیوں میں آسانی کے لیے وسیع اقتصادی فریم ورک تشکیل دینے اور دفاعی و انسدادِ دہشت گردی تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے فلسطین، امریکا ایران معاملات اور مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی امور میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سفارت کاری کا مقصد علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے تعاون کے امکانات بڑھانا ہے۔
ڈاکٹر مریم سعید نے پاک امریکا تعلقات کو سلامتی کے محدود دائرے سے نکال کر اقتصادی تعاون اور خوشحالی کی جانب لے جانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی نوجوان آبادی، پیشہ ورانہ مہارتیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں صلاحیتیں امریکی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا اقتصادی تعاون، امریکا کے ساتھ شراکت داری میں لازمی طور پر رکاوٹ نہیں۔
ڈاکٹر آمنہ ضیا نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات کے پائیدار مستقبل کے لیے مضبوط سول سوسائٹی اور عوامی ضروریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے فیصلہ سازی میں خواتین کی نمائندگی اور اقلیتوں کی آواز شامل کرنے کو پائیدار استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک امریکا تعلقات کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے سفارتی روابط، عوامی سطح پر رابطوں اور تجارت و سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔