کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم، 23 ہزار سے زائد افراد کی شرکت

 کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم، 23 ہزار سے زائد افراد کی شرکت
کیپشن:  کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم، 23 ہزار سے زائد افراد کی شرکت

ویب ڈیسک: کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں 18 اکتوبر کو خالصتان کے حق میں ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا، جس میں منتظمین کے مطابق 23 ہزار سے زائد افراد نے ووٹ ڈالے۔ سکھ فار جسٹس کے مطابق کینیڈا، امریکا اور یورپ سے سکھ برادری کے ہزاروں افراد البرٹا لیجسلیچر گراؤنڈز پہنچے۔

ریفرنڈم میں بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا بھارتی پنجاب کو ایک خودمختار ملک کا درجہ ملنا چاہیے؟ منتظمین کے مطابق ووٹنگ صبح 11 بجے شروع ہوئی اور طویل قطاروں کے باعث مقررہ وقت سے آگے تک جاری رہی، تاکہ تمام موجود افراد کو ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔

ریفرنڈم کے مقام پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ مبینہ دھمکیوں کے باوجود پروگرام کے وقت اور مقام میں تبدیلی نہیں کی گئی اور سکھ برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سکھ فار جسٹس کے مطابق 15 اکتوبر کو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں کو ان کی جان کو لاحق فوری خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ پنوں اس سے قبل 2023 میں امریکا میں مبینہ قاتلانہ سازش کا نشانہ بننے کے معاملے میں بھی سامنے آئے تھے۔ امریکی استغاثہ نے اس سازش کا تعلق بھارتی حکومتی اہلکاروں سے جوڑا تھا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم کا سلسلہ 2021 سے مختلف ممالک میں جاری ہے اور اس کا مقصد سکھ برادری کے لیے ایک آزاد وطن کے مطالبے پر رائے معلوم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد پُرامن اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں جاری ہے۔

ریفرنڈم کے نتائج اور قانونی حیثیت کے حوالے سے واضح رہے کہ اس نوعیت کی ووٹنگ نجی تنظیموں کے زیرِ اہتمام ہوتی ہے اور اسے کسی ریاستی یا اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی سرکاری ریفرنڈم کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔

Watch Live Public News