(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا میں حفاظتی تحویل میں ہیں، ان کیخلاف کوئی کیس آتا ہے تو ایڈوائزری کونسل فیصلہ کرے گی۔
عطاتارڑ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ سہولت کاری کےبغیر ممکن نہیں،کے پی حکومت دہشتگردوں کی سہولت کار تھی،ناقابل تردید شواہد سامنے رکھے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری کونسل کے پاس اختیار ہے کہ وہ کیسز کو آگے کیسے لے کر چلتی ہے، مراد سعید کی آئی ایس ایف ٹیم میں سہیل آفریدی، مینا خان،شفیع جان،شاہد خٹک شامل تھے، مراد سعید کی ٹیم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ کھل کرسامنے آیا اور یہ بری طرح بے نقاب ہوئے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ یہ کہتے تھے لاکھوں لوگ نکلیں گے،خیبر میں چند لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں نکلا،کے پی کے عوام نے نجات پر خوشی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں سے مذاکرات کیے گئے اور یہ راضی بھی ہوگئے تھے ،مذاکرات کامیاب ہوتے تو میں پہلا بندہ ہوتا جو کھڑا ہو کر مبارکباد دیتا۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پہلے 27اورپھر4تاریخ دی،ان کے پاس لانگ مارچ کیلئے بندے ہی نہیں تھے،پی ٹی آئی والوں کے پاس اسٹریٹ پاور تھی نہ دہشتگردی کیخلاف لائحہ عمل۔
انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو وفاق کی تحویل میں لیا گیا، سہیل آفریدی خیبر پختونخوا میں حفاظتی تحویل میں ہیں،ان کیخلاف کوئی کیس آتا ہے تو ایڈوائزری کونسل فیصلہ کرے گی۔
وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کے پاس کوئی اختیار نہیں،گروپ میں بٹے ہوئے ہیں، سینیٹ،قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈرز کے بیانات سے نہیں لگتا ان کا بات کا موڈ ہے۔ہاؤس کمیٹی میں اپوزیشن لیڈرز،بیرسٹر گوہر،علی محمد خان کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے خود کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی صحت مند ہیں،شفا،پمز کے ڈاکٹرز نے بانی پی ٹی آئی کوصحت مند قراردیا۔