(ویب ڈیسک) کابل انسٹیٹیوٹ نے طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان کو ملنے والی بین الاقوامی امداد اور اس کے استعمال پر ایک جامع اور ہوشربا رپورٹ جاری کر دی ہے، جس نے عالمی ڈونرز کی جانب سے دی جانے والی اربوں ڈالرز کی رقوم کی شفافیت کا پول کھول دیا ہے۔
کابل انسٹیٹیوٹ نے طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان کو ملنے والی امداد پر تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال میں انسانی امداد کے نام پر افغانستان کے لیے مختلف بین الاقوامی اداروں کو 8 ارب ڈالر دیئے گئے۔ ڈونرز میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سرِفہرست ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فراہم کردہ 8 ارب ڈالرز میں سے صرف 2 کروڑ 19 لاکھ ڈالرز بین الاقوامی ادارے سے کسی بھی دوسرے وصول کنندہ ادارے کو منتقل ہونے کا سراغ مل سکا ہے۔فراہم کردہ امداد کے 91 فیصد حصے کے استعمال اور منتقلی کی تفصیلات عوامی ریکارڈ میں موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق 1.42 ارب ڈالرز کی 316 ادائیگیوں پر وصول کنندہ کے سامنے لفظ "خفیہ" درج ہے۔ افغانستان کو ملنے والی بھاری امدادی رقم کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے،91 فیصد رقوم کی منتقلی کا کوئی سراغ نہیں ۔انسانی امداد کے علاوہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں نے 1208 پراجیکٹس کے لیے 12 ارب ڈالرز فراہم کرنے کی کمٹمنٹس کیں۔
ماہرن کا کہنا ہے کہ یہ تمام رقوم طالبان رجیم کو براہِ راست ملنے والی اربوں ڈالرز کی گرانٹس کے علاوہ ہیں۔ اربوں ڈالرز کے عطیات کے باوجود افغان عوام غربت کی چکی میں پیس رہی ہے۔لاکھوں لوگ دوسرے ممالک کی غیر قانونی ہجرت پر مجبور ہیں۔