ویب ڈیسک: افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ مشاورت کا آٹھواں اجلاس ماسکو میں شروع ہوگیا، جس میں پاکستان، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ اجلاس میں علاقائی امن و سلامتی، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی اور شریک ممالک کے وفود سے خطاب کیا۔ پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کر رہا ہے۔
پاکستانی وفد میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبیدالرحمان نظامانی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ اجلاس میں افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطے، مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی اقتصادی روابط کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق مشترکہ سکیورٹی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے افغانستان سمیت خطے کے ممالک کے درمیان بامقصد مذاکرات اور مسلسل رابطہ ضروری ہے۔
ماسکو فارمیٹ افغانستان اور خطے کے ممالک کو سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی معاملات پر مشاورت کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔