(ویب ڈیسک)مزاحمتی گروہوں کے حملوں میں طالبان رجیم کے کم از کم 13 اہلکار ہلاک اور 6 زخمی ہوئے، جبکہ متعدد فوجی گاڑیاں تباہ اور اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) کی کارروائیاں:
18اکتوبر: صوبہ ہلمند میں طالبان رجیم کے ایک اہلکار کو کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔
19 اکتوبر: قندھار کے ضلع ارغنداب میں اے یو ایف کے حملے کے نتیجے میں طالبان کا ایک اہلکار مارا گیا۔
21 اکتوبر: صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے گاؤں کمدشک میں طالبان پولیس اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا اور اس کی کلاشنکوف قبضے میں لے لی گئی۔
22 اکتوبر: ہلمند، لشکرگاہ اور کاپیسا میں بیک وقت 4 مختلف کارروائیاں کی گئیں، جن میں طالبان رجیم کے 5 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 1 رینجر گاڑی مکمل طور پر تباہ کر دی گئی۔
افغان گرین ٹرینڈ (AGT) کی کارروائی:
21 اکتوبر: صوبہ بدخشاں میں کشم فیض آباد شاہراہ پر طالبان کی 219 ویں بریگیڈ کی ایک فوجی گاڑی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
افغان فریڈم فرنٹ (AFF) کے حملے:
20 اکتوبر: صوبہ پروان میں طالبان رجیم کی ایک سیکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
21 اکتوبر: صوبہ تخار میں طالبان کے انٹیلی جنس یونٹ پر حملہ کیا گیا، جس میں 1 انٹیلی جنس اہلکار ہلاک، ایک افسر سمیت 3 زخمی ہوئے اور ان کی سرکاری گاڑی تباہ کر دی گئی۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (NIF) کے حملے:
19 اکتوبر: صوبہ ہرات میں طالبان رجیم کی ایک رینجر گاڑی پر حملہ کیا گیا۔
21 اکتوبر: صوبہ ننگرہار میں طالبان اہلکاروں کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک اور 1 شدید زخمی ہوا۔