ویب ڈیسک: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مسلح مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مختلف گروہوں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 25 سے 30 اکتوبر کے دوران افغانستان کے 12 صوبوں میں 19 حملے کیے گئے، جن میں طالبان کے 22 اہلکار ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق 25 اکتوبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے غور، زابل، غزنی، قندھار اور بدخشاں میں طالبان اہلکاروں کو 6 مختلف حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں 8 اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔
اے یو ایف کے مطابق 26 اکتوبر کو پروان میں طالبان کی ایک چوکی پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ 28 اکتوبر کو کاپیسا کے ضلع تگاب میں طالبان اہلکار ملا ثمر گل اور زابل میں ایک انٹیلی جنس اہلکار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
گروپ نے 29 اور 30 اکتوبر کے دوران قندھار کے اضلاع اسپین بولدک اور ارغستان جبکہ پکتیا کے شہر گردیز میں مزید 3 حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی، جن میں 3 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک رینجر گاڑی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
افغان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کے مطابق 25 اکتوبر کو کابل میں طالبان کی گاڑی پر حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا، جبکہ 27 اکتوبر کو کنڑ میں ایک چوکی پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (این آئی ایف) نے بھی 28 اور 29 اکتوبر کو کابل میں دو حملوں کے دوران 3 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق 30 اکتوبر کو سمنگان میں طالبان کی رینجر گاڑی پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوئے۔
افغانستان ریپبلکن فرنٹ (اے آر ایف) نے 26 اکتوبر کو غزنی میں طالبان انٹیلی جنس اہلکار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
دوسری جانب افغان گرین ٹرینڈ نے لغمان میں طالبان انٹیلی جنس کی دستاویزات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن کے مطابق صوبے میں تقریباً 400 افراد طالبان حکومت کے خلاف مسلح ہو چکے ہیں۔ گروپ نے 28 اکتوبر کو بامیان کے ضلع کہمرد میں طالبان کی ایک لاجسٹک گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔