ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کی جاتی تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں۔ عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
شہباز شریف نے صوبے میں گزشتہ 13 سال سے برسراقتدار جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ اس عرصے میں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال بنائے گئے؟ ان کے مطابق عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم کی سیاست پر توجہ دی گئی، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں عوامی مسائل نظرانداز ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا، جبکہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور آج بھی قوم کے لیے ایک المناک یاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت ایک فیصد اضافی وسائل دینے پر اتفاق ہوا تھا اور صوبے کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مشترکہ جدوجہد کی دعوت دی گئی، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔ انہوں نے 2014 کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم نے ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے محنت کی۔ عالمی حالات اور خلیجی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی، جس سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک بات چیت کی، تاہم طے شدہ مسودے کی منظوری نہ مل سکی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک، عوام، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ مسلم لیگ (ن) صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔