ویب ڈیسک: بالی ووڈ اداکار عامر خان سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنی زندگی کے ایک بڑے پچھتاوے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کام میں حد سے زیادہ مصروف رہنے کے باعث وہ اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو مناسب وقت نہیں دے سکے۔
عامر خان نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران انہیں احساس ہوا کہ زندگی کے تقریباً 30 سال کام کی نذر ہوگئے، جبکہ ان کے بچے بڑے ہوگئے اور وہ ان کے ساتھ قیمتی وقت نہیں گزار سکے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ چند سال کام میں مصروف رہنا سمجھ میں آتا ہے، لیکن کئی دہائیوں تک اسی طرزِ زندگی کو جاری رکھنے سے انسان اپنے قریبی رشتوں سے دور ہوجاتا ہے۔ یہ بات کرتے ہوئے وہ جذباتی ہوگئے، جس پر حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
عامر خان نے مزید کہا کہ اس احساس کے بعد وہ اپنی زندگی میں تبدیلی لائے اور گزشتہ چار برس سے خاندان اور قریبی دوستوں کے لیے باقاعدگی سے وقت نکال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں یہ احساس 56 سال کی عمر میں ہوگیا، جب کہ ابھی زندگی میں تبدیلی لانا ممکن تھا۔
فیسٹیول کے دوران ہانگ کانگ کے ہدایت کار پیٹر چان ہو سن نے عامر خان کو اسکرین آئیکون ایوارڈ بھی دیا۔ ان کی معروف فلم ’لگان‘ کی ریلیز کے 25 سال مکمل ہونے پر فلم کی خصوصی نمائش بھی فیسٹیول کا حصہ ہے۔