بھارت کی ریاست آسام میں بلڈوزر آپریشن، 1,100 سے زائد مسلم خاندان بے گھر!

 بھارت کی ریاست آسام میں بلڈوزر آپریشن، 1,100 سے زائد مسلم خاندان بے گھر!
کیپشن:  بھارت کی ریاست آسام میں بلڈوزر آپریشن، 1,100 سے زائد مسلم خاندان بے گھر!

ویب ڈیسک: 17 اور 18 اکتوبر 2026 کو بھارتی ریاست آسام کے اضلاع ناگاؤں، ہوجائی اور گولاگھاٹ میں حکام نے بلڈوزر کارروائیوں کے ذریعے بنگالی زبان بولنے والے 1, 100 سے زائد مسلم خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔

لوتوماری لانگجاپ ریزرو فاریسٹ میں 300 ہیکٹر سے زائد رقبے پر پھیلے 600 سے زیادہ مکانات مسمار کر دیے گئے، جبکہ ایک روز قبل ہی 547 خاندانوں کو بے دخل کیا جا چکا تھا۔ بے دخل کیے گئے خاندانوں میں 336 ناگاؤں، 152 ہوجائی اور 59 گولاگھاٹ کے رہائشی شامل تھے۔ اسی کارروائی کے دوران دس مساجد بھی مسمار کر دی گئیں، جن میں سے بعض کئی دہائیوں سے قائم تھیں۔

اطلاعات کے مطابق، 2016 میں بی جے پی کے آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 19,000 خاندانوں کو سرکاری اور جنگلاتی اراضی سے بے دخل کیا جا چکا ہے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے۔ ان کارروائیوں میں 2025 کے دوران دھوبری میں 1,400 خاندانوں اور اس سے قبل گولاگھاٹ میں 1,500 خاندانوں کی بے دخلی بھی شامل ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر جاری ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو رہائش، بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

ناقدین کے مطابق، بھارت میں ہندو قوم پرست سیاست کے زیرِ اثر مسلم اقلیتوں کی بے دخلی اور املاک کی مسماری مذہبی آزادی، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے تشویش ناک صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے۔ آسام میں مسلم خاندانوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور مساجد کی مسماری نے اقلیتی برادریوں کو درپیش مشکلات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

Watch Live Public News