دبئی لیکس: پاکستانی سیاستدانوں نے نام آنے پر کیا کہا؟

دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر بلاول بھٹو کا وضاحتی بیان آگیا
کیپشن: Bilawal Bhutto came out with an explanatory statement on being named in the Dubai Property Leaks

ویب ڈیسک: دبئی پراپرٹی لیکس میں پاکستانی سیاستدانوں کی اربوں ڈالر کی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے۔ جس کے بعد سیاستدانوں کی جانب سے وضاحتیں آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

بلاول بھٹو کی وضاحت:

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر وضاحت جاری کردی گئی ہے۔

بلاول بھٹو کے ترجمان ذوالفقار علی بدر کا کہنا ہے کہ بلاول اور آصفہ بھٹو کے تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو نے جلاوطنی میں پرورش پائی، جلاوطنی کے دوران بلاول اور آصفہ بھٹو مذکورہ املاک میں رہائش پذیر تھے۔

ترجمان کے مطابق بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مذکورہ املاک اولاد کو وراثت میں ملیں۔

ذوالفقارعلی بدر نے کہا کہ موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں، نہ ہی کچھ غیرقانونی ہے۔

محسن نقوی
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد اہلیہ کے نام پر لی تھی جو کہ مکمل طور پر ڈکلیئرڈ ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ بحیثیت نگراں وزیرِاعلیٰ میں نے یہ جائیداد الیکشن کمیشن میں ظاہر کی، یہ جائیداد ایک سال قبل بیچ کر حال ہی میں نئی پراپرٹی لی ہے۔

شرجیل میمن

سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ہمارے اثاثہ جات پہلے سے ہی ڈکلیئرڈ اور عوام کے علم میں ہیں، جن جائیدادوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے وہ بھی پہلے ہی ڈکلیئرڈ ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ہم ہر سال اثاثہ جات اور جائیداد کی ڈکلیئرشن میں یہ تفصیلات جمع کرواتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے سے سب کچھ عوام کے علم میں ہے۔