' ہمیں اب آر یا پار والے فیصلے کرنا ہونگے مصلحت پسندی نقصان دہ ہوگی'

' ہمیں اب آر یا پار والے فیصلے کرنا ہونگے مصلحت پسندی نقصان دہ ہوگی'
اسلام آباد: ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اب آر یا پار والے فیصلے کرنا ہونگے مصلحت پسندی نقصان دہ ہوگی ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں نے آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر اپنی اپنی تجاویز پیش کردیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے تجویز کیا ہے کہ عمران خان کے حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک پالیسی اپنائی جائے ۔ حکومت کا کمزور اور معذرت خواہانہ رویہ عمران خان کو مزید مضبوط بنا رہا ہے ، عمران خان کو قانون کی گرفت میں آنا چاہیے اور اپنے جرائم کا حساب دینا چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے موجودہ سیاسی صورتحال کا مل کر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، اتحادی جماعتوں کے عام انتخابات مل کر لڑنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم نواز نے پی ڈی ایم کو انتخابی اتحاد بنانے کی بجائے انفرادی حیثیت میں انتخاب لڑنے کی تجویز پیش کی ۔ مریم نواز نے عمران خان کی گرفتاری کی بھی تجویز پیش کردی ۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے کہا ہے کہ اس شخص کو قانون کے کٹہرے میں نہ لائے تو ہم پر انگلیاں اٹھیں گی۔ قانون سب کےلیے برابر ہے تو پھر یہ بھی قانون سے بالاتر نہیں۔انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اب آر یا پار والے فیصلے کرنا ہونگے مصلحت پسندی نقصان دہ ہوگی ۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔