قومی اسمبلی: 27 وزارتوں کے 67 مطالبات زر منظور

قومی اسمبلی: 27 وزارتوں کے 67 مطالبات زر منظور
اسلام آباد ( پبلک نیوز) قومی اسمبلی اجلاس میں آج 27 وزارتوں کے 2171 ارب 71 کروڑ کے 67 مطالبات زر منظور کر لیے گئے۔تفصیلات کے مطابق وزارت دفاع کے تیرہ سو چوراسی ارب 14 کروڑ روپے کے پانچ مطالبات زر ، وزارت داخلہ کے 184 ارب روپے کے پانچ مطالبات زر اور وزارت آبی وسائل کے 92 ارب 90 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر منظور کیے گئے۔ وزارت تعلیم، فنی تربیت اور ثقافت کے ایک سو انتالیس ارب روپے کے آٹھ مطالبات زر، وزارت صنعت و پیداوار کے 16 ارب 54 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے 14 ارب 79 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر کی منظوری دی گئی۔وزارت دفاعی پیداوار کے دو ارب 69 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر، وزارت اقتصادی امور کے 13 ارب 88 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر اور وزارت قانون و انصاف کے 17 ارب 87 کروڑ روپے کے سات مطالبات زر کو منظور کیا گیا۔وزارت بین الصوبائی روابط کے پانچ ارب 39 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر، وزارت انسانی حقوق کے ایک ارب چھیالیس کروڑ روپے کے دو مطالبات زر اور قومی اسمبلی کا 3 ارب 19 کروڑ روپے کا ایک مطالبہ زر بھی منظور ہوا۔ سینٹ کا ایک ارب 54 کروڑ روپے کا ایک مطالبہ زر، وزارت امور کشمیر کے 38 ارب 81 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 15 ارب 23 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر کو منظوری دی گئی۔وزارت صنعت و پیداوار کے 16 ارب 54 کروڑ روپے کے دو مطالبات زر اور وزارت مذہبی امور کا ایک ارب تئیس کروڑ روپے کا ایک مطالبہ زر بھی تسلیم کر لیا گیا۔ قومی اسمبلی نے 264 کھرب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات کی بھی منظوری دے دی۔ ان لازمی اخراجات پر ووٹنگ نہیں ہوتی۔ اپوزیشن کی جانب سے ایوان صدر اور مختلف وزارتوں کے لازمی اخراجات کی مخالفت کی گئی۔

شازیہ بشیر نےلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 42 نیوز اور سٹی42 میں بطور کانٹینٹ رائٹر کام کر چکی ہیں۔