8 اکتوبر2005 کی قیامت خیزسحر کوگزرے16 برس بیت گئے

8 اکتوبر2005 کی قیامت خیزسحر کوگزرے16 برس بیت گئے
پبلک نیوز: آٹھ اکتوبر 2005 کی قیامت خیز سحر کو گزرے 16 برس بیت گئے۔ تلخ یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ زلزلے سے تباہ شدہ علاقوں میں تعمیراتی کام اب بھی مکمل نہ ہوسکے۔ 8 اکتوبر 2005 صبح 8 بجکر 50 منٹ وہ ہولناک لمحہ تھا جب آزادکشمیر، اسلام آباد، ایبٹ آباد، خیبرپختونخوا اور ملک کے بالائی علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلو میٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا۔ اس زلزلے میں تقریباً اسی ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ لاکھوں مکانات منہدم۔ اربوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی۔ اسلام آباد جیسے شہر میں مارگلہ ٹاورز کے علاوہ بہت سے دفاتر، عمارات اور دکانیں اس زلزلے کی نذر ہو گئے۔۔ بالاکوٹ تو جیسے صفحہ ہستی سے ہی مٹ گیا۔ زلزلے سے تباہ شدہ علاقوں میں تعمیراتی کام اب بھی مکمل نہ ہو سکے۔ مجموعی طور پر 14 ہزار 704 تعمیراتی منصوبے مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا جس میں سے اب تک 10 ہزار 978 منصوبے مکمل ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2005 کا ہولناک زلزلہ اس قدر خوفناک قدرتی آفت تھی کہ اس سے بچ جانے والے لوگ آج بھی سکتے کے عالم میں ہیں اس سانحے کے زخم ابھی تازہ ہیں، اس زلزلے نے کئی انسانی المیوں کو جنم اور کئی افراد کو عمر بھر کے لیے اپاہج کر دیا جو آج بھی سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں۔

شازیہ بشیر نےلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 42 نیوز اور سٹی42 میں بطور کانٹینٹ رائٹر کام کر چکی ہیں۔