مصر  کااسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کیس میں فریق بننے کا اعلان

مصر  کااسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کیس میں فریق بننے کا اعلان

(ویب ڈیسک ) مصر اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے عالمی عدالت انصاف  کے نسل کشی کیس میں فریق بنے گا۔

مصر کا کہنا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں دائر مقدمے میں فریق بنے گا۔ جس میں اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں' جینوسائیڈ کنونشن' کے تحت   فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ  نے بیان میں کہا  کہ  یہ اقدام فلسطینی شہریوں کے خلاف بڑھتی ہوئے اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

انہو  ں نے بیان میں کہا کہ  یہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت اور دائرہ کار کے باعث کیا گیا ہے، جس میں  شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانا اور غزہ  میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی، اور زبردستی فلسطینیوں  کو  بے دخلی  پر مجبور کرنا ہے۔ ‘‘ 

مصر نے کہا کہ وہ اسرائیل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ  عالمی عدالت انصاف  کے جاری کردہ عارضی اقدامات پر عمل درآمد کرے، جس میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسانی  امداد تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ 

وزارت نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی عوام کے خلاف کسی قسم کی خلاف ورزی نہ کرے۔

اس کے علاوہ مصر نے  بیان میں  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی فریقوں سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حصول اور رفح میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کو ضروری تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔