وزیر اعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ٹیلی فون پر گفتگو، اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ میں اہم کردار پر اظہارِ تشکر

وزیر اعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ٹیلی فون پر گفتگو، اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ میں اہم کردار پر اظہارِ تشکر
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کرسٹالینا جارجیوا کا پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ میں اہم کردار ادا کرنے پر اظہارِ تشکر کیا ۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عالمی مالیاتی ادارے کی مینجنگ ڈائیریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، وزیرِ اعظم نے کرسٹالینا جارجیوا کا پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ میں اہم کردار ادا کرنے پر اظہارِ تشکر کیا۔ وزیرِ اعظم نے کرسٹالینا جارجیوا کی قیادت اور انکے پیشہ ورانہ کردار کی تعریف کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے پاکستان کی مشکل میں پاکستان کے کروڑوں غریبوں کا احساس کیا، آپ کے قیمتی تعاون کا شکریہ۔جس پر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے سامنے پاکستان کے کیس کو بھرپور انداز میں پیش کیا، آئی ایم ایف کو پاکستان کے گزشتہ معاہدے کے نتائج کی وجہ سے شکوک و شبہات تھے۔ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے مسلسل رابطے اور اانسے ملاقات کے بعد بورڈ کو وزیرِ اعظم کی پاکستان کی معاشی بحالی کیلئے سنجیدگی سے آگاہ کیا، پاکستان کے معاشی حالات میں وزیرِ اعظم نے اعلی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اب بھرپور اعتماد کی فضاء قائم ہے، پاکستان آئی ایم ایف کا اہم رکن ہے، پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایم ڈی آئی ایم ایف کے مثبت رویے کی تعریف کی۔وزیرا عظم نے کہا کہ بالآخر دونوں شراکت داروں کی محنت رنگ لائی اور اسٹینڈ بائی معاہدہ طے پایا، حکومت آئی ایم کے معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کرے گی، مجھے یقین ہے کہ آئندہ ماہ بننے والی نگران حکومت بھی معاہدے پر قائم رہے گی۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی عوام ہمیں دوبارہ منتخب کرتی ہے تو ترقیاتی شراکت داروں اور آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر ملک کی معیشت کو ازسر نو ترقی دینے کیلئے محنت کریں گے۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔