"8 فروری کوکے پی میں 90 فیصد حلقوں میں دھاندلی کی کوشش کی گئی لیکن 15 فیصد کامیابی ہوئی"

(ویب ڈیسک )  پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تیمور خان جھگڑا نے کہا ہے کہ آٹھ فروری کو خیبرپختونخوا میں 90 فیصد حلقوں میں دھاندلی کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی انہیں صرف 15 فیصد پر ہوئی۔

اسلام آباد میں غیرملکی میڈیا سے گفتگو میں تیمور خان جھگڑا نے ان انتخابات کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ’رگڈ‘ الیکشن قرار دیتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلی کے کئی حلقوں کے اعداد و شمار پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونحوا اسمبلی کے نو حلقوں میں فارم 45 میں ’ردوبدل‘ کر کے نتائج تبدیل کیے گئے۔ ان میں حلقہ پی کے 72، 73، 74، 75، 78، 79، 80، 82 اور قومی اسمبلی کا حلقہ 28 شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس ان نشستوں کے 90 فیصد فارم 45 موجود ہیں۔

تیمور خان جھگرا نے اس موقع پر کئی فارم صحافیوں کو دکھائے جن میں بقول ان کے بڑے ’بھونڈے‘ طریقے سے ’ردوبدل‘ کی گئی۔

انہوں نے میڈیا کے ساتھ آٹھ ریٹرنیگ افسران کے فیصلے بھی شیئر کیے جو ان کے مطابق ’کاپی پیسٹ‘ کیے گئے تھے۔ ان کے ساتھ اس موقع پر تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے کئی امیدوار بھی موجود تھے جن کے نتائج ان کے مطابق ’تبدیل‘ ہوئے۔

ان کا اصرار تھا کہ قومی و صوبائی حلقے میں ووٹ پول ہونے کی تعداد بھی مختلف ہے جو کہ ممکن نہیں ہوسکتا۔